• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: بچوں کی حفاظت کا قانون سخت، میٹا استحصال کے معاملات درج کرنے پر متفق

Updated: September 16, 2026, 8:54 AM IST | New Delhi

ہندوستان نے بچوں کی حفاظت کے قانون سخت کئے، جبکہ میٹا نے بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات درج کرنے پر اتفاق کرلیا ہے،میٹا ہندوستان، امریکہ اور یورپ میں حکومتوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ بنانے کے اقدامات تیز کرنے کے ساتھ ہی بچوں کی حفاظت کے معاملات براہ راست ہندوستان کے آئی۴؍ سی سائبر کرائم پورٹل پر درج کرے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ٹیک کمپنیمیٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی بنیادی کمپنی ہے، نے بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات براہ راست ہندوستان کے سائبر کرائم پورٹل پر درج کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ مرکز بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔میٹا کے ترجمان نے منگل۱۵؍ ستمبر کو کہا کہ کمپنی آن لائن بچوں کے استحصال اور متعلقہ جرائم سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
بعد ازاں کمپنی نے کہا کہ وہ بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات پر اپنے ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستانی حکام کے ساتھ کام کرے گی۔میٹا ترجمان نے کہا، ’’ہمارے پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت ہمارے لیے ایک ترجیح ہے، اور ہم حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔‘‘ مزید برآں ترجمان نے کہا، ’’اس نقصان سے نمٹنے کے لیے ہماری اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے، میٹا اب بچوں کی حفاظت کے معاملات براہ راست انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی۴؍ سی) کے زیر انتظام سائبر کرائم پورٹل پر رپورٹ کرے گا۔اس اقدام کا مقصد بچوں کی حفاظت کے خدشات اور آن لائن جرائم پر میٹا اور ہندوستانی حکام کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے: سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی

واضح رہے کہ انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے اور سائبر کرائم کی روک تھام اور ردعمل پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ دریں اثناء یہ پیش رفت بچوں کی آن لائن حفاظت پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی حکومتی جانچ پڑتال میں اضافے کے درمیان سامنے آئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ بچوں کے لیے آن لائن حفاظت ہندوستان میں کام کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے اور اسے ’’ناقابل مذاکرات‘‘ قرار دیا۔ میٹا کے نمائندے۹؍ ستمبر کو قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کے سامنے پیش ہوئے جب بچوں کے حقوق کے ادارے نے کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور میٹا انڈیا کے سربراہ کو طلب کیا۔ یہ پیشی میٹا کے پلیٹ فارمز پر چائلڈ سیکسول ایکسپلائٹیشن اینڈ ابیوز میٹریل سے متعلق مبینہ اشتہارات کی انکوائری سے منسلک تھی۔
ذہن نشین رہے کہ امریکہ میں، میٹا نے اگست میں ۲۹؍ ریاستوں کے ساتھ۱۶؍ اعشاریہ ۶۸؍ بلین ڈالر تک کے تصفیے پر اتفاق کیا، جس میں الزامات تھے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا جس نے نوجوان صارفین کونقصان پہنچایا۔ تصفیے میں بچوں اور نوعمروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ تاہم میٹا نے غلط کام سے انکار کیا ہے۔ جبکہ کئی ممالک نے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے یا نوجوان صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ آسٹریلیا نے۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پہلے ہی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بچوں کے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو نشانہ بنانے والے اقدامات پر غور کیا ہے۔یورپی یونین بھی ای یو کڈز ایکٹ تیار کر رہی ہے، جس میں۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، اے آئی چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز تک رسائی پر پابندیوں کی تجویز متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ابوظہبی کے ولی عہد نے مصافحہ کرکے ہندوستانی ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا، انٹرنیٹ صارفین کے دل جیت لئے

اس کے علاوہ مجوزہ فریم ورک عمر کی بنیاد پر رسائی کے قوانین متعارف کرائے گا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہوگی۔مجوزہ یورپی یونین کے قوانین ڈیجیٹل خدمات کو ڈیزائن کے لحاظ سے محفوظ بنانے کی بھی کوشش کریں گے، بشمول ممکنہ طور پر لت لگانے والی خصوصیات کو نشانہ بنانے والے اقدامات۔ تاہم، تجویز کو قانون بننے سے پہلے یورپی یونین کے قانون سازی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK