Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان سیریز جیتنے کے قریب، زمبابوے کے لیے کرو یا مرو کی صورتحال

Updated: July 24, 2026, 4:05 PM IST | Harare

ہندوستانی ٹیم سنیچر کو زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی میچ میں میدان میں اترے گی، جہاں اس کی نظریں سیریز اپنے نام کرنے پر ہوں گی، جبکہ میزبان زمبابوے کے لیے یہ مقابلہ کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

Team India.Photo:X
ٹیم انڈیا۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی ٹیم سنیچر کو زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی میچ میں میدان میں اترے گی، جہاں اس کی نظریں سیریز اپنے نام کرنے پر ہوں گی، جبکہ میزبان زمبابوے کے لیے یہ مقابلہ کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے جانے والے اس میچ میں شکست کی صورت میں زمبابوے سیریز بھی گنوا دے گا۔

یہ بھی پڑھئے:’’ٹی وی شوز میں آدمی کی حقیقت جبکہ ورٹیکل میں خوابوں کی دنیا دکھائی جاتی ہے‘‘


شریاس ایّر کی قیادت میں کھیلنے والی نوجوان ہندوستانی ٹیم نے پہلے ٹی۲۰؍ میں سات وکٹوں کی شاندار کامیابی کے ساتھ سیریز میں ۰۔۱؍ کی برتری حاصل کر لی تھی۔ بلے بازی اور گیندبازی دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی کی بدولت ہندوستان ایک اور فتح کے ساتھ سیریز میں ناقابل شکست ۰۔۲؍کی برتری حاصل کر سکتا ہے، جبکہ زمبابوے کو ایک اور گھریلو سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پہلے میچ میں ہندوستان کی کامیابی کی بنیاد جارحانہ بلے بازی اور منظم گیندبازی رہی۔ نوجوان سلامی بلے باز ویبھو سوریہ ونشی نے صرف ۱۹؍ گیندوں پر اپنی پہلی بین الاقوامی نصف سنچری بنا کر زمبابوے کے گیندبازی اٹیک کو تہس نہس کر دیا۔ ایشان کشن نے ۳۵؍ رنز بنائے، جبکہ کپتان شریاس ۲۸؍ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور دونوں نے ٹیم کو مقررہ ہدف ۱۲۶؍ رنز صرف تین وکٹوں کے نقصان پر ۴۰؍ گیندیں باقی رہتے حاصل کرا دیا۔
 اس سے قبل ہندوستان کے نوجوان تیز گیندبازوں نے زمبابوے کی بیٹنگ لائن کو ابتدا ہی میں دباؤ میں ڈال دیا۔ مینک یادو نے میچ کی پہلی ہی گیند پر برائن بینیٹ کو آؤٹ کیا اور ۱۸؍ رنز دے کر دو وکٹ حاصل کئے جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ پرنس یادو نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ روی بشنوئی اور شیوم دوبے نے ایک، ایک وکٹ لے کر زمبابوے کو سات وکٹوں پر ۱۲۵؍رنز تک محدود رکھا۔
اس کامیابی کے بعد ہندوستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ہرارے ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں منوانے کا میدان بن گیا ہے، جہاں ویبھو سوریہ ونشی اور میانک یادو سے ایک بار پھر ٹیم کی برتری برقرار رکھنے کی امیدیں وابستہ ہیں۔
 دوسری جانب زمبابوے کے لیے صورتحال بالکل واضح ہے۔ اگر وہ یہ میچ ہار جاتا ہے تو سیریز بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ پہلے میچ میں اننگز کی پہلی ہی گیند پر برائن بینیٹ کے آؤٹ ہونے کے بعد سکندر رضا کی ٹیم سنبھل نہ سکی۔ ویسلے مدھیویرے نے ۳۹، تادیواناشے مارومانی نے ۲۷؍ اور ریان برل نے ۲۶؍ رنز بنا کر کچھ مزاحمت ضرور کی، لیکن وہ ٹیم کو بڑے اسکور تک نہیں پہنچا سکے۔ میزبان ٹیم کو اس بار اپنے ٹاپ آرڈر سے کہیں بہتر کارکردگی کی توقع ہوگی، جبکہ تیز گیندباز بلیسنگ مزرابانی اور رچرڈ نگاراوا کو ابتدائی وکٹیں حاصل کر کے ہندوستان کے جارح مزاج بلے بازوں کو جلد قابو میں کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:امیزون کے ملازمین کی برطرفیاں پھر شروع، اے جی آئی ٹیم میں متعدد عہدے ختم


ہرارے اسپورٹس کلب کی پچ پر بلے اور گیند کے درمیان متوازن مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ موسم بھی صاف رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ اس میدان پر عموماً پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیم کو برتری حاصل رہی ہے، تاہم پہلے میچ میں ہندوستان کی آسان کامیابی سے ظاہر ہوا کہ پچ پورے میچ کے دوران شاٹ کھیلنے کے لیے سازگار رہتی ہے۔ مضبوط فارم اور اعتماد کے ساتھ اترنے والی ہندوستانی ٹیم اس میچ میں بھی پسندیدہ  ٹیم تصور کی جا رہی ہے، جبکہ زمبابوے کے پاس واپسی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اگر وہ سیریز کو تیسرے اور فیصلہ کن ٹی ۲۰؍ تک لے جانا چاہتا ہے تو اسے ہر شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK