• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی معاشی بنیاد مضبوط، عالمی غیر یقینی صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ: سیتارمن

Updated: October 03, 2026, 6:15 PM IST | New Delhi

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان اس چیلنج کا کامیابی سے سامنا کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ملک کی معاشی بنیاد مضبوط برقرار ہے۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان اس چیلنج کا کامیابی سے سامنا کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ملک کی معاشی بنیاد مضبوط برقرار ہے۔ یہ بات مرکزی وزیر خزانہ  نرملا سیتارمن  نے سنیچرکو نئی دہلی میں منعقدہ  پانچویں کوٹلیہ اکنامک کانکلیو  کے دوران کہی۔ وزیر خزانہ نے ’’تبدیلی کے دور میں مضبوطی: بھارت کی معاشی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اس مشکل دور سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں نکلنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی بنیاد نہ صرف مضبوط ہے بلکہ اس میں مزید بہتری بھی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی میں نصرت بھروچا کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری ہوگی

نرملا سیتارمن نے عالمی معیشت کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۵ء میں عالمی عوامی قرض بڑھ کر مجموعی عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ۹۴؍ فیصد  تک پہنچ گیا ہے اور ۲۰۲۹ء تک اس کے ۱۰۰؍ فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ان کے مطابق قرض کی یہ سطح دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں آخری مرتبہ دیکھی گئی تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ قیمتوں سے متعلق جھٹکوں کو مالیاتی اور مانیٹری اقدامات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، لیکن مقدار یا رسد سے متعلق جھٹکے وسیع تر معاشی نظام، تقسیم کے طریقہ کار تک رسائی اور ریاست کی انتظامی صلاحیت کا امتحان لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جھٹکے ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب عالمی معیشت میں پہلے ہی حفاظتی انتظامات کمزور ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہویولنڈ نے رونالڈو کا ’سیوو‘ جشن منایا، جارج جیسس کو دھکا دینے کا ویڈیو وائرل

انہوں نے ہندوستان کی معاشی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ  مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں ۸ء۷؍ فیصد اضافہ  ہوا۔ اگست ۲۰۲۶ء میں صارف قیمت اشاریہ یعنی  سی پی آئی افراط زر تقریباً ۸ء۴؍فیصد  رہا  جبکہ پہلی سہ ماہی میں  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ۵ء۰؍ فیصد  کے برابر رہا۔نرملا سیتارمن نے کہا کہ ۲۰۱۴ء سے حکومت نے ان صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے جن پر پائیدار ترقی کا انحصار ہے۔ ان میں بحران یا تبدیلی کے دوران ریاست کی فوری کارروائی کی صلاحیت، معیشت کی پیداواری صلاحیت اور شہریوں و کاروباری اداروں کی ترقی کے عمل میں مؤثر شرکت کی صلاحیت شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی مضبوطی کی پہلی بنیاد  خاندانوں کی سطح پر لچک اور استحکام پیدا کرنا  ہے۔ ان کے مطابق حکومتی اخراجات اور مختلف سرکاری منصوبوں کو عوام کی زندگی میں ٹھوس بہتری میں تبدیل کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ شفاف نظام، سخت نگرانی اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد زمینی سطح تک پہنچیں۔
نرملا سیتارمن کے مطابق مختلف فلاحی منصوبوں کے بروقت نفاذ نے بھی خاندانوں کو درپیش مختلف مسائل سے نمٹنے میں مدد کی۔  پردھان منتری آواس یوجنا  کے تحت رہائش،  سوچھ بھارت مشن  کے ذریعے صفائی ستھرائی،  اجولا یوجنا  کے تحت صاف کھانا پکانے کی گیس،  آیوشمان بھارت  کے ذریعے صحت کی سہولت اور  پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کے ذریعے غذائی تحفظ نے خاندانوں کی معاشی اور سماجی کمزوری کے مختلف پہلوؤں کو دور کرنے میں کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK