ہندوستان کے بجلی کے شعبے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی توسیع دیکھی ہے۔ تیزی سے بڑھتی اقتصادی سرگرمیوں، صنعتوں کے پھیلاؤ، شہری آبادی میں اضافے اور گھریلو سطح پر بجلی کی بڑھتی کھپت کے باعث ملک میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 8:01 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے بجلی کے شعبے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی توسیع دیکھی ہے۔ تیزی سے بڑھتی اقتصادی سرگرمیوں، صنعتوں کے پھیلاؤ، شہری آبادی میں اضافے اور گھریلو سطح پر بجلی کی بڑھتی کھپت کے باعث ملک میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان کے بجلی کے شعبے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی توسیع دیکھی ہے۔ تیزی سے بڑھتی اقتصادی سرگرمیوں، صنعتوں کے پھیلاؤ، شہری آبادی میں اضافے اور گھریلو سطح پر بجلی کی بڑھتی کھپت کے باعث ملک میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے جمعہ کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، ٹرانسمیشن نیٹ ورک اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں ملک کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب (Peak Power Demand) تقریباً دُگنی ہو گئی ہے۔ مالی سال ۱۴۔۲۰۱۳ء میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب ۹ء۱۳۵؍ گیگاواٹ تھی، جو ۲۱؍ مئی ۲۰۲۶ءکو بڑھ کر ریکارڈ۸ء۲۷۰؍گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب میں یہ اضافہ اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی، شہری کاری، صنعتی توسیع اور گھریلو بجلی کے استعمال میں مسلسل اضافے کا نتیجہ ہے۔بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان نے اپنی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مارچ ۲۰۱۴ء میں ملک کی کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت ۲۴۹؍ گیگاواٹ تھی، جو جولائی ۲۰۲۶ء تک بڑھ کر۵۵۲؍ گیگاواٹ ہو گئی۔ حکومت کے مطابق گزشتہ برسوں میں شامل کی گئی نئی پیداواری صلاحیت نے نہ صرف موجودہ بجلی کی طلب پوری کرنے میں مدد کی ہے بلکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی ملک کے بجلی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یش کی فلم ’’ٹاکسک‘‘ باکس آفس پر بدترین ناکامیوں میں شامل،۳۰۰؍ کروڑ کا نقصان
بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ملک کے پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں بھی بڑی توسیع کی گئی ہے۔ اپریل ۲۰۱۴ء میں ہندوستان کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی لمبائی۲۹۱۳۳۶؍ سرکٹ کلومیٹر (CKM) تھی، جو جولائی ۲۰۲۶ء تک بڑھ کر۵۱۰۵۹۴؍ سرکٹ کلومیٹر ہو گئی۔ حکومت کے مطابق وسیع تر ٹرانسمیشن نیٹ ورک نے قومی گرڈ کو مزید مربوط بنانے، مختلف علاقوں کے درمیان بجلی کی ترسیل کو آسان کرنے اور بجلی کی فراہمی کے نظام کو زیادہ قابل اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
روایتی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے ساتھ ہندوستان نے صاف اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی تیزی سے ترقی کی ہے۔ انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA) کی رینیویبل انرجی اسٹیٹسٹکس ۲۰۲۶ء رپورٹ کے مطابق نصب شدہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کے لحاظ سے ہندوستان اب چین اور امریکہ کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریباکینا نے گاف کو ہرا کر یو ایس اوپن فائنل میں سبالینکا سے مقابلہ طے کیا
ہندوستان نے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی کے میدان میں بھی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں غیر فوسل ایندھن کے ذرائع کا حصہ ۵۰؍ فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اس طرح ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت ۲۰۳۰ء تک حاصل کیے جانے والے اس ہدف کو مقررہ مدت سے پانچ سال پہلے ہی حاصل کر لیا۔ حکومت کے مطابق بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن اور صاف توانائی میں مسلسل سرمایہ کاری ہندوستان کو مستقبل کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مضبوط بنا رہی ہے۔