پیوش گوئل نےاسے ’’مدرآف آل ڈیلس‘‘قرار دیا، یورپی ممالک میں ہندوستانی ٹیکسٹائل، ادویات اور گاڑیوں کے پرزوں پر ٹیرف میں کمی متوقع۔
یہ معاہدہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ یہ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کی نئی تعریف وضع کرےگا۔ تصویر: آئی این این
ایسے وقت میں جبکہ امریکہ ہندوستان کو مسلسل آنکھیں دکھا رہاہے ، ۲۷؍ جنوری کو ’۱۶؍ ویں ہند -یورپی یونین سربراہی‘ اجلاس میں ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ کا اعلان ہوسکتاہے۔یہ سربراہی اجلاس ۷۷؍ ویں یوم جمہوریہ کی تقریب میں یورپی یونین کے کئی سربراہان مملکت کی شرکت کے بعد ۲۷؍ جنوری کو نئی دہلی میں ہی منعقد ہوگا۔ مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل یورپی ممالک کے اتحاد کے ساتھ اس معاہدہ کے تعلق سے جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ’’مدرآف آل ڈیلس‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
یہ معاہدہ ہندوستان کی جانب سے اب تک طے پانے والا سب سے بڑا اور جامع تجارتی سمجھوتہ قرار دیا جارہا ہے جو اشیا اور خدمات کے وسیع شعبوں کا احاطہ کرتا ہے اور بدلتے ہوئے عالمی تجارتی منظرنامے میں دنیا کے ۲؍بڑے معاشی بلاکس کے درمیان گہرے اقتصادی تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس آزادانہ تجارتی معاہدہ پر مذاکرات کا آغاز ۲۰۰۷ء ہوا تھا تاہم بازاروں تک رسائی، ٹیرف اورضوابط سے متعلق اختلافات کی وجہ سے ۲۰۱۳ء میں بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ تقریباً ایک دہائی بعد ۲۰۲۲ء میںمذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور تیزی سے منطقی انجام تک پہنچانےکی کوشش کی گئی۔اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سےیورپی ممالک کیلئے ہندوستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، ملبوسات، ادویات، انجینئرنگ مصنوعات اور گاڑیوں کےپرزوں پر محصولات میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یورپی کمپنیوں کیلئے بھی ہندوستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بازار تک رسائی میں بہتری آئے گی اور وہ آٹوموبائل، شراب، طبی آلات اور اعلیٰ درجے کی صنعتی مصنوعات یہاں فروخت کرسکیں گی۔ خدمات کے شعبے میں بھی آئی ٹی، مالیاتی خدمات، ٹیلی کمیونی کیشن اور پیشہ ورانہ خدمات جیسے شعبوں میں مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔
اسٹریٹجک سطح پر یہ معاہدہ نئی دہلی کیلئے برآمدات میں توسیع اور تنوع میں معاون ہوگا اور چند محدود تجارتی شراکت داروں پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس کی وجہ سے ہندوستان میں یورپ سے سرمایہ کاری بڑھنےکی بھی امید ہے۔ بہرحال گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ اس پر فوری دستخط نہ ہوں کیونکہ مذاکرات میں اب بھی کئی اہم امور پر خلاء موجود ہے۔ بہرحال اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ یہ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کی نئی تعریف وضع کرنے اورمستقبل کیلئے ایک کے طور پر کام کریگا۔