Updated: October 24, 2026, 4:04 PM IST
| New Delhi
ایسوچیم کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے سے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو ۲۰۳۰ء تک ہندوستان سے جرمنی کو اشیا اور خدمات کی برآمدات ۵۰؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہیں، جبکہ یہ حجم بڑھ کر ۶۰؍ارب ڈالر، یعنی تقریباً ۵۴؍ ارب یورو تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ایف ٹی اے ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہندوستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ایسوچیم کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے سے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو ۲۰۳۰ء تک ہندوستان سے جرمنی کو اشیا اور خدمات کی برآمدات ۵۰؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہیں، جبکہ یہ حجم بڑھ کر ۶۰؍ارب ڈالر، یعنی تقریباً ۵۴؍ ارب یورو تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے اپنے دورۂ جرمنی کے دوران برلن میں جاری کی۔
یہ بھی پڑھئے:ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہم عالمی چیمپئن کی طرح کھیلیں: ٹیمبا باؤما
رپورٹ کے مطابق، ہند-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان تجارت کو نئی رفتار فراہم کرسکتا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے ہندوستانی برآمدات کے بڑے حصے کو صفر درآمدی محصول کی سہولت ملنے کی توقع ہے، جس سے ہندوستانی مصنوعات یورپی بازاروں میں زیادہ مسابقتی ہوسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کپڑا، ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، جوتے، قیمتی پتھر، زیورات، سمندری مصنوعات، انجینئرنگ کا سامان، ادویات اور الیکٹرانکس سمیت متعدد شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
ایسوچیم کے صدر نرمل کے منڈا نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی اپنی صنعتی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور اختراعی قوت سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی صنعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری بالخصوص چھوٹی، درمیانی اور مائیکرو صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کرسکتی ہے اور طویل مدتی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جرمنی کی مضبوط صنعتی بنیاد اور ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے کئی جدید صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔ ان میں جدید صنعتی پیداوار، سیمی کنڈکٹر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور دفاعی شعبہ شامل ہیں۔ ان میدانوں میں مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی شراکت داری سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ایسوچیم کے جنرل سکریٹری سوربھ سانیا ل کے مطابق، جرمنی کے ساتھ سبز اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، سبز ہائیڈروجن، برقی گاڑیوں اور بیٹری ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں شراکت داری سے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس سے ماحول دوست صنعتی ترقی کو تقویت دینے کے ساتھ نئی کاروباری سرگرمیوں کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:والد کے انتقال کے ۱۷؍ سال بعد پہلی بار فردین خان نے ان کی کاؤبوائے ہیٹ پہنی
انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست رابطوں، مختلف صنعتی شعبوں پر تبادلۂ خیال اور خریداروں و فروخت کنندگان کی ملاقاتوں کو فروغ دے کر اس شراکت داری کو حقیقی تجارتی نتائج میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل سے جرمنی میں ہندوستانی صنعتوں کی موجودگی اور کاروباری رسائی کو بھی وسعت مل سکتی ہے۔ایسوچیم کے چیف اکانومسٹ ایس پی شرما نے اندازہ ظاہر کیا کہ اگر ہند-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا تو ۲۰۳۰ء تک جرمنی کو ہندوستان کی برآمدات ۶۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، تجارت کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون میں اضافہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو طویل عرصے تک مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ایسوچیم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ہندوستانی صنعتوں کو جرمنی میں دستیاب کاروباری مواقع سے جوڑنے، معلومات کے تبادلے اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ مجموعی طور پر ہند-یورپی یونین ایف ٹی اے ہندوستانی برآمدات میں اضافے، جرمنی کے ساتھ تجارتی تعلقات کی توسیع اور مختلف صنعتی شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے قیام کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم، برآمدات کے مقررہ اہداف کا حصول معاہدے کی شرائط، اس پر عمل درآمد اور کاروباری اداروں کی جانب سے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے پر منحصر ہوگا۔