• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس احتجاج: ۱۳۵؍ گرفتار، ہتھیار ضبط، سخت حفاظت کے درمیان نئے مظاہرے

Updated: October 24, 2026, 10:10 PM IST | Paris

فرانس میں نئے احتجاج پھوٹ پڑے، اس دوران حکام نے ۱۳۵؍ مظاہرین کو گرفتار کیا، اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی ضبطی کی، تاہم حکام نے پیرس کی صورتحال کو دوپہر تک پرسکون قرار دیا۔

A scene from the protests in France. Image: X
فرانس احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

فرانس میں سنیچر کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف نئے مظاہرے دیکھے گئے، حکام نے گزشتہ ہفتے کے مظاہروں میں ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے ملک بھر میں۷۰؍ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے۔وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے کہا کہ پولیس نے ملک بھر میں۱۳۵؍ افراد کو گرفتار کیا ہے اور مختلف ہتھیار ضبط کیے ہیں، مزید کہا کہ اب تک کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ ضبط کی گئی اشیاء میں دھاتی گیندیں، لیڈ کے چھرے، آتش بازی، غلیل، اسٹیل کی گیندیں، دیسی ساختہ ہتھیار، ایک کٹانا تلوار اور ایئر سافٹ ہتھیار شامل ہیں۔ بعد ازاں نونیز نے کہا، یہ ضبطیاں واضح طور پر کچھ انتہائی بائیں بازو اور بنیاد پرست بائیں بازو کے گروپوں کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ متعدد مظاہروں کو پرتشدد بنائیں۔‘‘ جبکہ حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کے بعد تقریباً۲۷۰۰؍ افراد کو گرفتار کیا تھا، جس کے دوران سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، اور سینکڑوں دکانوں کو لوٹا گیا۔ ریٹیل سیکٹر نے کہا کہ دکانداروں کو سینکڑوں ملین ڈالر کا نقصان اور خسارہ ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ۱۹؍ بچوں کی زندگیاں بچائی، تمام نے سرجن کو خراجِ تحسین پیش کیا

دریں اثناء  اے ایف پی نے اپنے صحافی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ،پیرس پولیس نے سنیچر کو دوپہر تک صورتحال کو پرسکون قرار دیا۔ تاہم، جنوب مشرقی شہر لیون میں، پولیس نے تقریباً۱۵۰؍ افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس داغے، جو ایک ایسے علاقے میں احتجاج کر رہے تھے جہاں مظاہروں پر پابندی عائد تھی۔پولیس نے مظاہرین کی جانب سے سڑک بلاک کرنے کی کوشش کے بعد یونیورسٹی فیکلٹی اور شہر کے پولیس اسٹیشن کے قریب گروپ کو ہٹانے کے لیے آنسو گیس کے کئی گرینیڈ فائر کیے۔علاوہ ازیں صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کی جانب سے ٹریڈ یونینوں کی قیادت میں نہ ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگانے پر بھی غصہ بڑھا ہے۔ کئی گروپوں نے ان پابندیوں پر تنقید کی، انہیں احتجاج کے حق پر حملہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا میں دو سال بعد ملک گیر مظاہرے

تاہم فرانسیسی یونینوں نے ہچکچاتے ہوئے وسطی پیرس، مارسیل اور دیگر شہروں میں مارچوں پر پابندی کے احکامات کی تعمیل کی۔ تاہم، انہوں نے اور دیگر گروپوں نے حکومت کے آمرانہ رویہ پر تنقید کی۔ ییلو ویسٹس، جنہوں نے آٹھ سال قبل میکرون کے خلاف خلل ڈالنے والے مظاہرے کیے تھے، نے۳۱؍ اکتوبر کو ’’احتجاج کی آزادی‘‘ کے لیے نئے مظاہروں کی اپیل کی۔ جبکہ میکرون نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے بدترین تشدد کے لیے ’’انتہائی بائیں بازو‘‘ کے گروپوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو ’’جمہوریت کو ختم کرنا‘‘ چاہتے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ اٹلی، بیلجیم، اسپین اور پرتگال میں بھی مختلف مسائل پر مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں مہنگائی اور تعلیم تشویش کا باعث ہیں۔ اٹلی نے شہر میں سڑکوں پرتشدد کے بعد میلان میں۵۰۰؍ فوجی تعینات کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK