Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان کا مالیاتی خسارہ ۱ء۳؍لاکھ کروڑ روپے

Updated: July 31, 2026, 10:10 PM IST | New Delhi

کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں ہندوستان کا مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) ۱ء۳؍لاکھ کروڑ روپے رہا، جو پورے مالی سال کے مقررہ بجٹ ہدف کا ۲ء۱۸؍ فیصد ہے۔

Fiscal Deficit.Photo:INN
مالیاتی خسارہ۔ تصویر:آئی این این

کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس(سی جی اے) (CGA)  کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء  کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں ہندوستان کا مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) ۱ء۳؍لاکھ کروڑ روپے  رہا، جو پورے مالی سال کے مقررہ بجٹ ہدف کا ۲ء۱۸؍ فیصد  ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نے ہندوستان میں تاریخ رقم کی، کئی ریکارڈ توڑے


گزشتہ مالی سال کی اسی مدت (اپریل تا جون) میں مالیاتی خسارہ ۸ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے  تھا۔ اس بار حکومتی اخراجات میں اضافے کے باعث خسارہ بڑھا، تاہم ٹیکس وصولیوں میں مضبوط اضافہ برقرار رہا۔ مرکزی حکومت نے مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے  ۹۶ء۱۶؍ لاکھ کروڑ روپے  کا مالیاتی خسارہ مقرر کیا ہے، جو ملک کی  مجموعی گھریلو پیداوار (GDP)  کے۳ء۴؍ فیصد  کے برابر ہے۔ یہ حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
 ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ 
اپریل تا جون کے دوران حکومت کی خالص ٹیکس آمدنی بڑھ کر۴ء۶؍ لاکھ کروڑ روپے  ہو گئی  جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ۴ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے  تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود  براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی میں مضبوط اضافہ جاری ہے۔
اسی عرصے میں  غیر ٹیکس آمدنی  بھی بڑھ کر ۸ء۳؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال ۷ء۳؍ لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس میں سرکاری کمپنیوں اور  ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی ) سے حاصل ہونے والا منافع، اسپیکٹرم کی آمدنی اور مختلف سرکاری فیسیں شامل ہیں۔
 حکومتی اخراجات اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری میں اضافہ 
رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون کے دوران حکومت کے  کل اخراجات  بڑھ کر۶ء۱۳؍لاکھ کروڑ روپے  ہو گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ۲ء۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے  تھے۔ اسی طرح  سرمایہ جاتی اخراجات (Capital Expenditure) میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بندرگاہوں، قومی شاہراہوں اور ریلوے جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ بڑھ کر ۴ء۳؍لاکھ کروڑ روپے  ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ ۷۵ء۲؍ لاکھ کروڑ روپےتھا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے ویٹ لفٹنگ میں ایک گولڈ سمیت کل آٹھ تمغے جیتے


 سبسیڈی کے بڑھتے اخراجات کا خدشہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت کی  سبسیڈی  پر لاگت بڑھنے کا امکان ہے، جس سے آئندہ مہینوں میں حکومتی اخراجات اور مالیاتی خسارے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے۴ء۴؍ فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کیا تھا، جبکہ موجودہ مالی سال میں اسے مزید کم کرکے ۳ء۴؍ فیصد  مقرر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK