Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی نظموں کا اردو ترجمہ: بلیوں کی محفل

Updated: July 31, 2026, 9:27 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

امریکہ کے معروف مضمون نگار اور شاعر ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظموں کا مجموعہ ’’اولڈ پوسمس بُک آف پریکٹیکل کیٹس‘‘ Old Possum`s Book of Practical Cats میں شامل نظموں کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

لندن دن میں انسانوں اور رات میں بلیوں کا شہر بن جاتا ہے۔ صبح کے وقت بازاروں کی چہل پہل، گاڑیوں کی آمدورفت اور گھنٹیوں کی آوازیں اس قدر غالب ہوتی ہیں کہ کسی کو دیواروں پر خاموشی سے چلتی بلیوں کی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں ملتی۔ سورج ڈھلتے ہی جب گیس کے قمقمے روشن ہونے لگتے ہیں، شہر کی فضا بدلنے لگتی ہے۔ چھتوں پر لمبے سائے اترتے ہیں، گلیوں میں سرد ہوا سرگوشیاں کرتی ہے، اور لندن کی بلیاں اپنی اصل دنیا میں قدم رکھتی ہیں۔ ہر بلی مختلف ہوتی ہے مگر ان کے درمیان ایک ایسا پراسرار خاندان بھی ہے جس کا ذکر عام بلیاں دھیمی آواز میں کرتی ہیں۔ انہیں جیلی کل (Jellicle) بلیاں کہا جاتا ہے۔ یہ بلیوں کا ایک پُراسرار قبیلہ ہے جس کے متعلق عجیب و غریب کہانیاں مشہور ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بلیاں رات کے اندھیرے میں شہر کے ہر راز سے واقف ہوتی ہیں۔ اِن کی محفل میں دیگر بلیوں کو شرکت کی اجازت نہیں۔ سال میں صرف ایک مرتبہ جب چاند مکمل اور روشن ہوتا ہے، تب جیلی کل قبیلہ ایک خفیہ مقام پر جمع ہوتا ہے، جہاں ہنسی مذاق بھی ہوتا ہے، موسیقی بھی، پرانی یادیں بھی نکلتی ہیں اور نئے فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ 
پونم کی رات قریب تھی۔ شہر کی گلیوں، باغوں اور چھتوں پر خاموشی سے خبر پھیل رہی تھی’’وقت آ گیا ہے۔ ‘‘
ایک پرانے تہہ خانے کے روشن دریچے سے ایک موٹا، سست مگر نہایت باوقار بلا باہر نکلا۔ یہ گول مٹول تھا مگر چال میں ایسی نزاکت تھی جیسے کسی رئیس زادے کی ہو۔ اس نے اپنی مونچھیں درست کیں، گردن پر بندھی پٹی کو سنوارا اور اطمینان سے گلی کی طرف چل پڑا۔ یہ بسٹوفر جونز تھے۔ لندن کے اعلیٰ ہوٹلوں، قدیم کلبوں اور بہترین باورچی خانوں میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ وہ کبھی جلدی میں نہیں چلتے، کبھی آواز بلند نہیں کرتے اور کبھی کسی معمولی چیز پر اپنی رائے ضائع نہیں کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اچھی خوراک، اچھے آداب اور اچھی صحبت انسان ہو یا بلی، دونوں کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت

ایک موٹی دھاری دار بلی جینی اینی ڈاٹس دن کے وقت سست دکھائی دیتی مگر رات میں اس کی دنیا بدل جاتی۔ وہ بلی کے بچوں کو نظم و ضبط سکھاتی تھی۔ محفل کا پیغام ملتے ہی اس نے شاگردوں کو رخصت کردیا۔ 
ادھر ایک اونچی دیوار پر کوئی ایک لمحہ بھی ساکن نہ تھا۔ وہ کبھی دائیں چھلانگ لگاتا، کبھی بائیں، کبھی اپنی دم پکڑنے کی کوشش کرتا اور کبھی اچانک آسمان کی طرف دیکھ کر بےسبب ہنسنے لگتا۔ یہ رم ٹم ٹگر تھا جو ہمیشہ سب کی توقعات کے برعکس کام کرتا تھا۔ 
ریلوے اسٹیشن پر اسکمبل شینکس معمول کے مطابق نگرانی مکمل کرکے محفل کی طرف روانہ ہوا۔ 
شہر کے قدیم تھیٹر میں گرد کی ایک موٹی تہہ جمی تھی۔ ٹوٹے پردے، خالی نشستیں اور خاموش اسٹیج اس بات کے گواہ تھے کہ یہاں کبھی تماشائیوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ مگر آج رات وہاں ایک بوڑھا بلا بیٹھا تھا۔ یہ گس تھا جو تھیٹر کا مشہور اداکار رہ چکا تھا۔ لندن کے مختلف گوشوں سے جیلی کل بلیاں محفل کی طرف روانہ ہو رہی تھیں۔ ہر ایک کی اپنی انفرادیت تھی؛ بسٹوفر جونز اپنی شائستگی، جینی اینی ڈاٹس اپنے نظم و ضبط، رم ٹم ٹگر اپنی شرارت، اسکمبل شینکس اپنی ذمہ داری اور گس اپنی پرانی یادوں کیساتھ۔ آج وہ سب ایک بار پھر اپنے بزرگ، اپنے رہنما اور اپنے سب سے محترم ساتھی اولڈ ڈیوٹرانومی کے سامنے جمع ہوں گے مگر ان میں سے کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسی رات ایک اور بلا بھی لندن کی تاریک چھتوں پر خاموشی سے حرکت کر رہا تھا۔ وہ کسی جشن کا حصہ بننے نہیں آیا تھا۔ اس کی سبز آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں اور اس کی چال میں خاموشی تھی۔ لندن کی ہر بلی اسے جانتی تھی مگر کوئی بھی اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ میکاوٹی! وہ بلا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب بھی کوئی معمہ جنم لیتا ہے، اس کا سایہ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتا ہے۔ 
رات اپنی پوری رعنائی کے ساتھ زمین پر اتر چکی تھی۔ پورا چاند آسمان میں اس طرح جھلملاتا تھا جیسے کسی نے سیاہ مخمل پر چاندی کا چراغ رکھ دیا ہو۔ لندن کی گلیاں خاموش تھیں۔ شہر کے ایک متروک حصے میں، جہاں کبھی ایک شاندار تھیٹر آباد تھا، آج پھر زندگی لوٹ آئی تھی۔ انسانوں کیلئے وہ عمارت برسوں سے ویران تھی، مگر بلیوں کیلئے وہ ہمیشہ سے ایک مقدس مقام رہی تھی۔ ٹوٹے ہوئے ستونوں پر درجنوں بلیاں بیٹھی تھیں۔ مختلف عمروں کی بلیاں ایک دوسرے سے ہنسی خوشی مل رہی تھیں ۔ رم ٹم ٹگر ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے ہجوم کا مرکز بن گیا۔ وہ ایک ستون پر چڑھا، پھر وہاں سے سیدھا اسٹیج پر کودا اور بلند آواز میں بولا، ’’اگر آج بھی صرف تقریریں ہی سننی ہیں تو مَیں ابھی واپس جا رہا ہوں !‘‘ پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ اسی دوران جینی اینی ڈاٹس چند شرارتی بلی کے بچوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے سمجھا رہی تھیں کہ محفل میں بزرگوں کے سامنے شور نہیں مچایا جاتا۔ 
اسکمبل شینکس وقت پر پہنچ گیا۔ اسی دوران پورے ہال میں خاموشی چھاگئی۔ دروازے کے قریب بیٹھی تمام بلیاں احتراماً کھڑی ہو گئیں۔ ایک بوڑھا مگر نہایت باوقار بلا آہستہ آہستہ اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کی سفید مونچھیں چاندنی میں چمک رہی تھیں، قدم دھیمے تھے مگر وقار سے بھرپور، اور اس کی آنکھوں میں شفقت تھی۔ یہ تھے اولڈ ڈیوٹرانومی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی عمر کتنی ہے۔ کچھ کہتے تھے انہوں نے لندن کو کئی بار بدلتے دیکھا ہے۔ جیلی کل خاندان کا کوئی فیصلہ ان کی رائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ’’دوستو!‘‘ انہوں نے نرم آواز میں کہا، ’’ایک اور سال گزر گیا۔ یاد رکھو، جیلی کل ہونا صرف ایک شناخت نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، احترام کرتے ہیں ، اور یہی ہماری طاقت ہے۔ ‘‘ اتنے میں ایک دبلی پتلی بلی تیزی سے دوڑتی ہوئی اندر آئی۔ ’’معذرت چاہتی ہوں !‘‘ اس نے ادب سے کہا۔ ’’راستے میں منگوجیری اور رمپل ٹیذر شرارت کر رہے تھے۔ ‘‘ جیسے ہی ان دونوں کا نام لیا گیا، ہال کے پچھلے حصے سے دو بلیاں ایک پرانے پردے کے پیچھے سے الٹی لٹکتی ہوئی نمودار ہوئیں۔ ایک کے منہ میں چمچ تھا۔ دوسری کی گردن میں کسی باورچی خانے کا رومال بندھا ہوا تھا۔ یہ تھے منگوجیری اور رمپل ٹیذر۔ رم ٹم ٹگر نے انہیں دیکھتے ہی کہا، ’’آخر تم دونوں نے آج کیا کیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن

منگوجیری نے معصوم بننے کی کوشش کی، اور رمپل ٹیذر نے کہا، ’’کچھ بھی نہیں۔ ‘‘ اسی لمحے اس کی گردن سے ایک چاندی کا چمچ زمین پر گر پڑا۔ پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ اسی ہنسی خوشی کے ماحول میں گس آہستہ آہستہ اسٹیج کے درمیان آئے۔ انہوں نے اپنے تھیٹر کے ایک پرانے کردار کی مختصر جھلک پیش کی۔ بلی کے ننھے بچے حیرت سے انہیں دیکھتے رہے۔ جب انہوں نے اپنا مختصر منظر ختم کیا تو سبھی نے زور دار تالیاں بجائیں۔ گس نے جھک کر سلام کیا اور آہستہ سے کہا، ’’تھیٹر بدل جاتے ہیں مگر کہانیاں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔ ‘‘ پھر انہوں نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ ’’مگر ہماری محفل ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ‘‘ سب چونک گئے۔ ’’کیونکہ ایک بلی اب تک نہیں آئی تھی۔ ‘‘ چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر دور کہیں سے ہلکی سی موسیقی سنائی دی۔ ایسی موسیقی، جس میں اداسی بھی تھی اور امید بھی۔ اولڈ ڈیوٹرانومی کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔ انہوں نے کہا، ’’راستہ چھوڑ دو۔ کوئی آرہا ہے۔ ‘‘ باہر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ اس کے ساتھ چاندنی کی ایک لکیر ٹوٹے ہوئے دروازے سے گزر کر فرش پر بکھر گئی۔ پھر آہستہ آہستہ ایک بلی اندر داخل ہوئی۔ اس کی چال دھیمی تھی، جیسے ہر قدم اسے ماضی کی کسی یاد کی طرف لے جا رہا ہو۔ اس کی کھال بے ترتیب تھی، چہرے پر وقت کی تھکن تھی اور آنکھوں میں ایسی خاموش اداسی تھی جسے دیکھ کر چند لمحوں کیلئے محفل کا شور بھی جیسے دم توڑ گیا۔ وہ گریزابیلا تھی۔ کبھی وہ بھی جیلی کل خاندان کی خوبصورت، دلکش اور پُراعتماد بلیوں میں شمار ہوتی تھی۔ اسے نئی نئی جگہیں دیکھنے، دنیا کی رنگینیوں کا تعاقب کرنے اور ہر انجان راستے پر چلنے کا شوق تھا مگر وقت نے اسے بہت کچھ سکھایا تھا۔ اس نے جیلی کل کا اصول توڑتے ہوئے لندن سے باہر قدم نکالا تھا اس لئے قبیلے کی بلیاں اس سے دور رہتی تھیں۔ گریزابیلا چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، ہر سال جیلی کل محفل میں پہنچ جاتی تھی، اور ایک گوشے میں اس امید کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ جاتی کہ کبھی تو اس کی سزا ختم ہوگی۔ 
محفل میں اس کے قدم رکھتے ہی چند بلیاں ایک دوسرے کے قریب سمٹ گئیں۔ کچھ نے نظریں چرا لیں۔ کچھ سرگوشیاں کرنے لگیں۔ 
رم ٹم ٹگر بھی، جو ہر وقت مذاق کیلئے مشہور تھا، اس لمحے غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ گریزابیلا نے کسی کی طرف شکایت بھری نگاہ سے نہیں دیکھا۔ اس نے پورے ہال کا ماحول بدل دیا تھا۔ اولڈ ڈیوٹرانومی اور گریزابیلا کی نظریں چند لمحوں کیلئے ملیں مگر ان میں ملامت نہیں تھی۔ صرف شفقت تھی۔ 
محفل کا بوجھل ماحول ہلکا کرنے کیلئے رم ٹم ٹگر اچانک ایک ستون پر چڑھ گیا۔ ’’اگر سب خاموش رہے تو چاند بھی سو جائیگا! مَیں اعلان کرتا ہوں کہ محفل میں اداسی پر پابندی ہے!‘‘ وہ زور سے بولا، اور پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ یہی رم ٹم ٹگر کی خوبی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ کب ہنسانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

اسی دوران ایک عجیب سی بات ہونے لگی۔ ہال میں رکھی ایک پرانی ٹوپی خودبخود ہلنے اور ایک کرسی سرکنے لگی۔ موم بتیاں بجھ گئیں۔ ہال تاریک ہوگیا۔ اچانک اسٹیج کے عین درمیان نیلی روشنی کا ایک ننھا سا نقطہ نمودار ہوا جو گھومتے گھومتے بڑا ہونے لگا۔ پھر اس میں سے ایک بلا نمودار ہوا۔ کالی چمکدار کھال، روشن آنکھیں اور مسکراتا چہرہ۔ یہ تھے مسٹر مسٹوفلیز۔ بچے حیرت سے اچھل پڑے۔ مسٹر مسٹوفلیز نے سر جھکایا۔ پھر اپنی دم کو آہستہ سے گھمایا۔ اگلے ہی لمحے درجنوں جگنو ہال میں پھیل گئے۔ وہ کبھی ستاروں کی شکل بناتے، کبھی پھولوں کی اور کبھی چاند کا ہالہ۔ پھر اچانک سب غائب ہو گئے۔ صرف ایک سفید پھول رہ گیا جو اُڑتا ہوا گریزابیلا کے قدموں میں آٹھہرا۔ گریزابیلا نے حیرت سے پھول کو دیکھا۔ شاید کئی برس بعد کسی نے اسے اس طرح یاد کیا تھا۔ اس نے خاموشی سے پھول اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اولڈ ڈیوٹرانومی نے مسکراتے ہوئے مسٹر مسٹو فلیز سے کہا، ’’تمہارا بہترین جادو ہمیشہ وہ ہوتا ہے جس سے کسی کا دل خوش ہو جائے۔ ‘‘ مسٹر مسٹوفلیز نے نظریں جھکا لیں۔ محفل ایک بار پھر عروج پر تھی۔ 
چند لمحوں بعد ہال کی ایک کھڑکی زور سے کھل گئی۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر آیا۔ تمام موم بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ اندھیرا چھا گیا۔ پھر صرف ایک لمحے کیلئے دو سبز آنکھیں چمکیں۔ اسکمبل شینکس کھڑا ہو گیا۔ ’’رک جاؤ!‘‘ اس نے بآواز بلند کہا۔ ’’کوئی یہاں ہے۔ ‘‘ چند لمحوں بعد روشنی لوٹ آئی۔ 
سب نے اردگرد دیکھا۔ ہال بظاہر ویسا ہی تھا۔ کوئی نظر نہیں آ رہا تھا مگر ایک بات بدل چکی تھی۔ 
اولڈ ڈیوٹرانومی کے سامنے رکھا ہوا جیلی کل خاندان کا قدیم تمغہ غائب تھا۔ بسٹوفر جونز نے حیرت سے کہا، ’’ابھی تو یہ یہیں تھا!‘‘
جینی اینی ڈاٹس نے بےاختیار ننھی بلیوں کو اپنے قریب کر لیا۔ اسکمبل شینکس نے باہر کا جائزہ لیا مگر دیر ہوچکی تھی۔ وہاں صرف باریک پنجوں کے نشانات تھے۔ اولڈ ڈیوٹرانومی نے کہا، ’’یہ اسی کا کام ہے۔ ‘‘ اسی لمحے دور کسی چھت پر ہلکی سی ہنسی گونجی۔ ایسی ہنسی، جس میں جلدی تھی نہ خوف۔ صرف اعتماد۔ لندن کی ہر بلی اس ہنسی کو پہچانتی تھی۔ میکاوٹی۔ 
مگر جب تک سب باہر پہنچتے، وہ رات کے سیاہ سائے میں کہیں گم ہو چکا تھا۔ محفل کی خوشی اب ایک نئے سوال میں بدل چکی تھی۔ 
اولڈ ڈیوٹرانومی نے نرمی سے کہا، ’’دوستو! ایک چوری ہماری محفل کو منتشر نہیں کر سکتی۔ ‘‘
’’لیکن تمغہ...‘‘ ایک نوجوان بلی بولی۔ 
’’تمغہ دوبارہ بن سکتا ہے، ‘‘ اولڈ ڈیوٹرانومی نے جواب دیا، ’’لیکن اگر ہم اپنا وقار کھو بیٹھے تو وہ آسانی سے واپس نہیں آتا۔ ‘‘ ان کی آواز میں ایسی مضبوطی تھی کہ ہال کی بےچینی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ 
کچھ دیر بعد محفل دوبارہ اپنی ترتیب میں آ گئی۔ جگنو پھر روشن ہوئے۔ ٹوٹے اسٹیج پر چاندنی اتر آئی۔ اولڈ ڈیوٹرانومی اسٹیج کے درمیان آئے۔ ’’ہر سال کی طرح آج بھی ہم اس بلی کو اعزاز سے نوازیں گے جس نے اپنی زندگی میں ہمت، وقار اور امید کو زندہ رکھا۔ ‘‘ تمام نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا ہر جیلی کل بلی کو انتظار رہتا تھا۔ سبھی کی خواہش ہوتی کہ یہ اعزاز اسے ملے۔ اولڈ ڈیوٹرانومی دروازے کے اس گوشے کی جانب بڑھے جہاں گریزابیلا سفید پھول لئے بیٹھی تھی۔ انہوں نے نرمی سے کہا، ’’گریزا بیلا۔ ‘‘ گریزابیلا نے آہستہ سے سر اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صحرا کےتین خواب

’’وقت انسانوں کو بھی بدلتا ہے اور بلیوں کو بھی۔ مگر جو اپنی غلطیوں سے سیکھ لے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔ ‘‘ گریزابیلا کی آنکھوں چھلک گئیں۔ بلیاں، جو کچھ دیر پہلے اس سے نظریں چرا رہی تھیں، اب خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ جینی اینی ڈاٹس اس کے قریب بیٹھ گئی۔ پھر گس، پھر بسٹوفر جونز۔ اس کے بعد رم ٹم ٹگر۔ اس نے کہا، ’’اس محفل میں برسوں سے ایک جگہ خالی تھی۔ ‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’اب بھر گئی ہے۔ ‘‘ 
گریزابیلا نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔ پھر مسٹر مسٹوفلیز اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے اپنی دُم گھمائی، پورا تھیٹر ستاروں جیسی روشنیوں سے بھر گیا، اور چند لمحوں بعد انہی روشنیوں میں قدیم تمغہ کی شبیہ ابھر آئی۔ سب حیران رہ گئے۔ ’’یہ اصل تمغہ نہیں مگر یہ ہمیں یاد دلانے کیلئے کافی ہے کہ کسی نشان کی اصل قیمت اس دھات میں نہیں ہوتی جس سے وہ بنا ہو، بلکہ اس روایت میں ہوتی ہے جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔ ‘‘ مسٹر مسٹو فلیز نے کہا۔ 
اولڈ ڈیوٹرانومی نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’بہت خوب۔ ‘‘ انہوں نے تمغہ اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر سب کو دکھاتے ہوئے کہا، ’’اگر میکاوٹی نے اصل تمغہ لیا بھی ہے، تب بھی وہ ہماری یادیں، ہماری دوستی اور ہماری روایت نہیں لے جا سکتا۔ ‘‘
محفل ختم ہوئی تو بلیاں ایک ایک کر کے لندن کی مختلف گلیوں، باغوں، چھتوں اور ریلوے اسٹیشنوں کی طرف روانہ ہونے لگیں۔ اولڈ ڈیوٹرانومی آخر میں دروازے پر ٹھہرے۔ انہوں نے سیاہ آسمان کی طرف دیکھا۔ دور، ایک پرانی عمارت کی منڈیر پر دو سبز آنکھیں چاندنی میں چمک رہی تھیں۔ وہ میکاوٹی تھا۔ اس نے اولڈ ڈیوٹرانومی سے چند لمحوں کیلئے نظریں ملائیں پھر ہمیشہ کی طرح رات کے سائے میں گم ہو گیا۔ شاید وہ پھر کبھی نظر آئے، شاید نہ آئے۔ مگر لندن کی ہر بلی جانتی تھی کہ جب بھی کسی پرانے معمہ کا ذکر ہوگا، جب بھی کسی ناقابلِ فہم چوری کی بات نکلے گی، یا جب بھی سبز آنکھیں اندھیرے میں چمکتی دکھائی دیں گی، لوگ صرف ایک ہی نام لیں گے۔ میکاوٹی۔ 
اور یوں رات ختم ہو گئی۔ مگر جیلی کل بلیوں کی روایت، ان کی دوستی، ان کی زندہ دلی، ان کی معافی اورامید ایک اور سال کیلئے پھر زندہ ہو گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK