اراکین پارلیمان نے پارلیمنٹ کے باہر رام مندر چندہ چوری معاملے کو تمثیلی انداز میں پیش کرکے احتجاج کیا ، جس میں پپو یادو نے بھگوا لباس پہن کرپجاری کا کردار ادا دیا۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 10:09 PM IST | New Delhi
اراکین پارلیمان نے پارلیمنٹ کے باہر رام مندر چندہ چوری معاملے کو تمثیلی انداز میں پیش کرکے احتجاج کیا ، جس میں پپو یادو نے بھگوا لباس پہن کرپجاری کا کردار ادا دیا۔
حزب اختلاف اراکین پارلیمنٹ، جن کی قیادت پپو یادو کر رہے تھے جنہوں نے پجاری کا روپ اختیار کیا تھا،نے پارلیمنٹ میں رام مندر کے عطیات کی چوری کے الزامات پر ایک تمثیلی احتجاج پیش کیا، جبکہ راہل گاندھی نے اس پرفارمنس میں مختصر شرکت کی ، جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں نئی ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) کی تحقیقات کی نگرانی کا اعلان کیا۔ پورنیہ سے ایم پی راجیش رنجن، جو پپو یادو کے نام سے مشہور ہیں، نے پجاری کا لباس پہنا، جبکہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اس پرفارمنس کے دوران ایک مختصرطور پر پیش ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ احتجاج مکڑ دوار کی سیڑھیوں کے قریب ہوا، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو رام مندر کے مبینہ عطیات چوری پر نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ حالیہ احتجاج کے دوران طلباء پر پولیس کارروائی کے حوالے سے ایوان میں بیان دیں۔اراکین پارلیمنٹ صبح ساڑھے دس بجے مکڑ دوار پر دوہرے احتجاج کے لیے جمع ہوئے، جہاں انہوں نے طلباء مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی اور ایودھیا میں رام مندر میں مبینہ ’’عطیات کی چوری‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔
🚨 Parliament or political theatre?
— The Alternate Media (@AlternateMediaX) July 31, 2026
Today`s Opposition protest featured a skit where Pappu Yadav dressed as a priest, Rahul Gandhi offered money in a donation box, MPs touched the "priest`s" feet, and then the "priest" ran away with the donation box.
Congress should know that… pic.twitter.com/jmcYRYf0xc
بھگوا لباس میں ملبوس اور بھگوان رام کی تصویر لیے ہوئے، پپو یادو نے مندر کے پجاری کا کردار ادا کیا جو عقیدت مندوں سے عطیات جمع کر رہے تھے۔ راہل گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن اراکین نے اس ڈرامے میں شمولیت اختیار کی اور احتجاجی مقام پر رکھے عطیات کے ڈبوں میں رقم ڈالی۔پھر پرفارمنس نے ایک ڈرامائی موڑ لیا۔ یادو کو رقم عطیات کے ڈبے کی بجائے اپنی جیب میں ڈالتے دیکھا گیا، جس سے اپوزیشن کے اس الزام کو پیش کیا گیا کہ رام مندر میں دیے گئے عطیات کو چوری کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی سماج وادی پارٹی کے ایک ایم پی، جو ایک عقیدت مند کا کردار ادا کر رہے تھے، نے مبینہ چوری پر اس ’’پجاری‘‘ کا سامنا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’آپ کی جِلد ملک کے مستقبل سے زیادہ روشن ہے‘: دِپکے کا مودی کے ویڈیو پر نیا طنز
دراصل یہ علامتی احتجاج ایک نکڑ ناٹک کی طرح تھا، جس میں ساتھی اپوزیشن اراکین نے عقیدت مندوں کا کردار ادا کیا جو آگے بڑھ کر ڈبے میں عطیات ڈال رہے تھے۔جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اس ایم پی کے پجاری کے لباس میں ایوان میں داخل ہونے پر اعتراض جتایا۔ برلا نے یادو کا نام لیے بغیر اراکین کو اس طرح کے اقدامات سے خبردار کیا، کہا کہ اس سے پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔دریں اثنا، اتر پردیش حکومت نے۲۷؍ جولائی کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے عدالت کے پہلے احکامات کی روشنی میں ایودھیا میں رام مندر میں دیے گئے عطیات کی مبینہ غبن کی تحقیقات کے لیے ایک نئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کرن ایس نئی ایس آئی ٹی کی سربراہ ہیں۔ جیسا کہ سولیسیٹر جنرل آف انڈیا ترنم مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ٹیم میں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل، ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ایک ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی شامل ہیں،۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریاست کی پیش کردہ رپورٹ کا نوٹس لیا اور ایس آئی ٹی کو دو ہفتوں کے اندر جائزہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی۔