GK of the Protests یعنی یہ جانئے کہ کون کون سے مظاہرے یا آندولن ایسے ہیں جنہیں تاریخ میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی تعداد کافی زیادہ ہے، یہاں محض چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 9:24 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai
GK of the Protests یعنی یہ جانئے کہ کون کون سے مظاہرے یا آندولن ایسے ہیں جنہیں تاریخ میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی تعداد کافی زیادہ ہے، یہاں محض چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں ناانصافی، جبر، استحصال یا آزادیِ اظہار پر قدغن عائد کرنے کی کوششیں ہوئیں، سب سے پہلے طلبہ اور نوجوانوں نے آوازِ حق بلند کی۔ نوجوانی کا جوش، بلند حوصلہ، بہتر مستقبل کا خواب اور تبدیلی کی خواہش انہیں ہر دور میں سماجی اور سیاسی تحریکوں کا ہر اول دستہ بناتی رہی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہوئے کئی تاریخی احتجاج محض وقتی مظاہرے ثابت نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے حکومتوں کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کیا، آمرانہ نظاموں کو چیلنج کیا، نسلی امتیاز اور جنگوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کی اور جمہوری اقدار کو نئی زندگی بخشی۔
زیر نظر کالموں میں قومی اور عالمی سطح کے ایسے ۹؍ یادگار پُرامن احتجاج اور مظاہروں کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے جن میں طلبہ اور نوجوان صرف تماشائی نہیں بلکہ تبدیلی کے حقیقی معمار بن کر ابھرے۔ ان تحریکوں میں کہیں آزادی کا مطالبہ تھا، کہیں تعلیم اور مساوات کی جنگ، کہیں آمریت کے خلاف بغاوت اور کہیں انسانی حقوق کے تحفظ کی صدا۔ یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوانوں کی اجتماعی آواز اگر منظم، پُرامن اور بااصول ہو تو وہ نہ صرف قوموں کی سمت بدل سکتی ہے بلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ بھی موڑ سکتی ہے اور اپنے شعور، اتحاد اور عزم کے ساتھ ان کی آواز سرحدوں اور نسلوں سے بلند ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہر تعلیمی سرگرمی اور تجربہ آپ کے مستقبل کی تعمیر میں اہم
فرائیڈیز فار فیوچر
(Fridays for Future)، عالمی سطح پر، ۲۰۱۸ء سے
’فرائیڈیز فار فیوچر‘ ایک عالمی ماحولیاتی تحریک ہے جس کا آغاز ۲۰۱۸ءمیں ہوا تھا اور یہ اب تک جاری ہے۔ اس تحریک کی بنیاد سویڈیش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے رکھی ہے۔
اس تحریک میں طلبہ ہر جمعہ کو اسکول یا کالج کے بعد یا اوقاتِ تعلیم سے باہر پرامن احتجاج اور آگاہی مہم چلاتے ہیں۔
اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں کاربن کے اخراج میں کمی کریں اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیں۔
اس کے تحت کئی عالمی کلائمیٹ اسٹرائیکس (Climate Strikes) منعقد ہوئیں جن میں لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔
آج بھی ’فرائیڈیز فار فیوچر‘ مختلف ممالک میں سرگرم ہے۔
ڈانڈی یاترا(Salt March)، ہندوستان ۱۹۳۰ء
’ڈانڈی یاترا‘ جسے’نمک کی ستیہ گرہ‘ بھی کہتے ہیں، کا آغاز۱۹۳۰ءمیں گاندھی جی نے کیا تھا۔
اس مارچ کا بنیادی مقصد برطانوی حکومت کے نمک قانون کی مخالفت کرنا تھا۔
مہاتما گاندھی نے سمندر کے پانی سے نمک بنا کر اس قانون کو علامتی طور پر توڑاتھا۔
اس تاریخی مارچ میں ابتدا میں ۷۸؍رضاکار مہاتما گاندھی کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔
یاترا کے دوران تقریباً۳۹۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ( احمد آباد سے گجرات) پیدل طے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یہ صرف کتابیں نہیں، آپ کی Mentor ہیں، اِن سے ہر دن کچھ نیا سیکھیں
مخملی انقلاب(Velvet Revolution)، چیکو سلواکیہ ۱۹۸۹ء
’مخملی انقلاب‘ ۲۵؍ نومبر ۱۹۸۹ء کو اس وقت کے چیکوسلواکیہ میں برپا ہوا تھا۔
اس انقلاب کو’’مخملی ‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بغیر خونریزی کے کامیاب ہوا۔
یہ ایک پرامن عوامی تحریک تھی جس کا مقصد کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ تھا۔
عوام کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں کمیونسٹ حکومت نے اقتدار چھوڑ دیا۔
واسلاو ہیول (Václav Havel) اس انقلاب کے نمایاں لیڈرتھے جو بعد میں صدر بنے۔
گرینزبورو دھرنا
(Greensboro Sit-ins )، امریکہ، ۱۹۶۰ء
اس احتجاج کی ابتدا چار افریقی نژاد امریکی طلبہ نے کی جو مساوی شہری حقوق کیلئے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
طلبہ ایک ایسے لنچ کاؤنٹر پر جا کر خاموشی سے بیٹھ گئے جہاں صرف سفید فام افراد کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ یہ احتجاج مکمل عدم تشدد پر مبنی تھا۔
چند ہی ہفتوں میں ہزاروں طلبہ اس احتجاج میں شامل ہوئے۔
احتجاج کے بعد گرینزبورو کے متعلقہ اسٹور نے نسلی امتیاز ختم کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آسان مراحل میں جانئے پورا سال تعلیمی ہدف پر قائم رہنے کا طریقہ
امبریلا تحریک
(Umbrella Movement)، ہانگ کانگ، ۲۰۱۴ء
۲۸؍ ستمبر۲۰۱۴ء کو شروع ہونے والی یہ تحریک آزاد جمہوری انتخابات کیلئے تھی۔ یہ’’امبریلا موومنٹ‘‘اس لئے کہلائی کہ مظاہرین نے آنسو گیس اور مرچ اسپرے سے بچنے کیلئے چھتریوں (Umbrellas) کا استعمال کیا جو بعد میں اس تحریک کی علامت بن گئیں۔
یہ احتجاج تقریباً ۷۹؍دنوں تک جاری رہااور دنیا کی توجہ حاصل کی۔
اگرچہ مطالبات پورے نہ ہوئے مگر جمہوری سرگرمیوں کو تقویت ملی۔
اوٹپور(Otpor)، سربیا، ۱۹۹۸ء تا۲۰۰۰ء
اوٹپور( مزاحمت) طلبہ تحریک تھی جو ۱۹۸۸ء میں شروع کی گئی تھی۔
اس تحریک کا مقصد اُس وقت کے صدر سلوبوڈن میلوشیویچ کی حکومت کے خلاف پُرامن احتجاج کرنا تھا۔ اس تحریک کی علامت ’بند مٹھی‘ تھی۔
اس تحریک کی قیادت زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور نوجوانوں نے کی۔
۲۰۰۰ءکے انتخابات کے بعد عوامی احتجاج کے نتیجے میں سلوبودان میلوشیویچ اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اس تحریک نے سربیا میں جمہوری تبدیلی کی راہ ہموارکی۔
یہ بھی پڑھئے: وہ ۲۴؍ شخصیات جو اے آئی کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہیں
فلپائنی انقلاب
( EDSA Revolution)، فلپائن، ۱۹۸۶ء
’پیپل پاور ریولوشن‘ جسے’ ای ڈی ایس اے‘ بھی کہا جاتا ہے، ۲۲؍ سے ۲۵؍ فروری۱۹۸۶ء کے درمیان فلپائن میں برپا ہوا تھا جس کا مقصد صدرفرڈینینڈ مارکوس کی طویل آمرانہ حکومت کا خاتمہ تھا۔
لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور عدم تشدد پر مبنی احتجاج کیا۔ کئی اعلیٰ افسران نے حکومت کے بجائے عوامی تحریک کی حمایت کی۔
چار دن بعد فرڈینینڈ اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
جون ڈیموکریٹک موومنٹ ۱۹۸۷ء
(June Democratic Movement)، جنوبی کوریا
۱۹؍ دنوں پر مشتمل اس تحریک کا آغاز جنوبی کوریا میں ہوا تھا۔
اس تحریک کا مقصد فوجی آمریت کا خاتمہ اور براہِ راست صدارتی انتخابات کا حصول تھا۔ اس میں عام شہریوں نےبڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
مسلسل عوامی دباؤ کے بعد حکومت نے عوام کے اہم جمہوری مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں براہِ راست صدارتی انتخابات کی منظوری دی گئی اور آئینی اصلاحات نافذ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: آپ مشین کو سکھائیں گے کہ وہ ڈیٹا سے کیسے سیکھے اور فیصلے کرے!
سن فلاور موومنٹ
(Sunflower Movement)، تائیوان، ۲۰۱۴ء
اس احتجاج کا مقصد تائیوان اور چین کے مابین سروس ٹریڈ معاہدہ کی شفاف جانچ کا مطالبہ تھا۔ یہ ’’سن فلاور‘‘ اس لئے کہلایا کہ سورج مکھی کا پھول بطور امید، شفافیت اور جمہوریت کی علامت استعمال کیا گیا۔
اس تحریک کی قیادت یونیورسٹی کے طلبہ اور نوجوان کارکنوں نے کی۔
یہ تحریک زیادہ تر عدم تشدد اور پرامن احتجاج پر مبنی تھی۔ دباؤ کے بعد حکومت نے معاہدے پر نظرثانی اور مزید نگرانی کے مطالبات پر غور کیا۔
وہ ۱۰؍ تحریکیں جن کی معلومات طلبہ کو دی جاتی رہی ہیں
(۱) بھارت چھوڑو تحریک (۱۹۴۲ء)
ہزاروں طلبہ نے برطانوی استعمار کے خاتمے اور ہندوستان کی آزادی کیلئےملک گیر جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔
(۲) نو نرمان تحریک (۱۹۷۳ء۔ ۱۹۷۴ء)
گجرات میں طلبہ کے احتجاج نے مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف عوامی تحریک کی شکل اختیار کر کے حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھئے: آسان طریقے سے تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل، یہ ہے اس کورس کی خصوصیت
(۳) جے پی تحریک (۱۹۷۴ء۔ ۱۹۷۵ء)
طلبہ کی وسیع حمایت سے چلنے والی اس تحریک نے شفاف حکمرانی، جمہوری اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
(۴) آسام تحریک (۱۹۷۹ء۔ ۱۹۸۵ء)
طلبہ تنظیموں نے غیر قانونی ہجرت کے خلاف کامیاب عوامی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں آسام معاہدہ وجود میں آیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہر تعلیمی سرگرمی اور تجربہ آپ کے مستقبل کی تعمیر میں اہم
(۵) چپکو تحریک (۱۹۷۳ء)
طلبہ اور، سماجی کارکنوں اور دیہاتیوں نے درختوں سے لپٹ کر جنگلات کے تحفظ کی ایک تاریخی ماحولیاتی تحریک برپا کی۔
(۶) مئی فورتھ موومنٹ (چین، ۱۹۱۹ء)
یونیورسٹی طلبہ کی احتجاجی تحریک نے چین میں قوم پرستی، سائنسی فکر اور تعلیمی اصلاحات کو نئی سمت دی۔
یہ بھی پڑھئے: آسان مراحل میں جانئے پورا سال تعلیمی ہدف پر قائم رہنے کا طریقہ
(۷) وہائٹ روز تحریک (جرمنی، ۱۹۴۲ء۔ ۱۹۴۳ء)
یونیورسٹی کے چند طلبہ نے نازی حکومت کے خلاف پُرامن مزاحمت کر کے جرات اور اصول پسندی کی مثال قائم کی۔
(۸) اپارتھائیڈ مخالف طلبہ تحریک (جنوبی افریقہ۱۹۷۰ء۔ ۱۹۹۰ء)
طلبہ اور نوجوانوں نےنسلی امتیاز کے خاتمے کی طویل جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور قومی و بین الاقوامی حمایت کو مضبوط بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں کو بامعنی بنائیں، یہ سرگرمیاں آپ کی صلاحیتیں نکھاریں گی
(۹) اورنج انقلاب (یوکرین، ۲۰۰۴ء۔ ۲۰۰۵ء)
طلبہ اور نوجوان تنظیموں نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے مطالبے کیلئے پُرامن مظاہروں کی قیادت کی۔
(۱۰) میپل اسپرنگ (کنیڈا، ۲۰۱۲ء)
لاکھوں طلبہ نے تعلیمی فیس میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔