Updated: February 27, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
ہندوستان نے باضابطہ غزہ کی تعمیر نو میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جبکہ امن فوج میں شمولیت کے تعق سے ہندوستان نے خاموشی اختیار کی ہے،وزیر خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ ہندوستان کے پاس انتہائی مخصوص صلاحیتیں ہیں جو غزہ جیسی صورتحال میں انتہائی متعلقہ ثابت ہوں گی۔
نریندر مودی اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ۔ تصویر: پی ٹی آئی
ہندوستان نے جمعرات کو سرکاری طور پر کہا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن غزہ امن منصوبے میں شامل بین الاقوامی سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں اپنے دستے بھیجنے کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ واضح رہے کہ یہ فورس اقوام متحدہ کے تحت قائم ہونے والی کثیر القومی امن فوج ہے۔بعد ازاں وزیر خارجہ وکرم مصری نے ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ہاں، ہم اپنا کردار دیکھتے ہیں۔‘‘ ان سے یہ سوال آئی ایس ایف میں اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا، جس کی تعیناتی پر حماس اور اسرائیل گزشتہ اکتوبر میں متفق ہوئے تھے۔ مصری نے غزہ کی تعمیر نو سے متعلق سوال کا تفصیلی جواب دیا، لیکن آئی ایس ایف سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔تاہم انہوں نے کہا، ’’غزہ کی تعمیر نو میں ہمارا کردار اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہاں صورتحال کیسے تیار ہوتی ہے۔ اس وقت قیاس آرائی نہیں کرنا چاہوں گا کہ ہم کس شعبے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے پاس انتہائی مخصوص صلاحیتیں ہیں جو غزہ جیسی صورتحال میں انتہائی متعلقہ ثابت ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: اندور میں آلودہ پانی کے سبب ایک اور شخص کی موت ، عوام میں ناراضگی
ساتھ ہی مصری نے بتایا کہ ہندوستان پہلے ہی فلسطینی معاشرے کے لیے تقریباً۱۷۰؍ ملین ڈالر کے منصوبے نافذ کر رہا ہے اور تعلیم، صحت اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں مزید۴۰؍ ملین ڈالر کے منصوبےمنتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس کے تخفیف اسلحہ پر تنازع کے باعث غزہ امن منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ ایسے میں وزیراعظم مودی نے ہندوستان کا یقین ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا ۲۰؍ نکاتی منصوبہ خطے میں منصفانہ، پائیدار اور دیرپا امن کا ضامن ہوگا اور فلسطینی مسائل کو بھی حل کرے گا۔
واضح رہے کہ مودی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’’غزہ امن منصوبے نے امن کی راہ ہموار کی ہے۔ ہندوستان نے ان کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔‘‘جبکہ اسرائیل کے دورے پر ملک کی داخلیتنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے، مصری نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے گزشتہ سال باقاعدگی سے خطے کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ مغربی ایشیا کے تمام ممالک سے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ہندوستان -مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری پر بات چیت کے بارے میں پوچھے جانے پر، مصری نے بتایا کہ اس پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی صورتحال اس اقدام کی پیشرفت کو متاثر کرتی ہے اور آئی ایم ای سی کے ممکنہ شراکت دار ممالک کے تعلقات کو ایک خاص سطح پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسرائیل اس وقت آئی ایم ای سی کا باقاعدہ رکن نہیں ہے، لیکن اس راہداری کی کامیابی میں وہ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور دلت باورچی پر اعتراض: سپریم کورٹ جج کی تشویش
یاد رہے کہ مودی کے اس دورے کے دوران، جسے نیتن یاہو نے ’’غیر معمولی طور پر نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا، دونوں ممالک نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو امن، اختراع اور خوشحالی کے لیے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنی ٹیموں کو آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات تیز کرنے کی ہدایت دی۔