پیوش گوئل ’میک ان انڈیا‘ مہم کو تقویت دینے کیلئے درآمدی اشیا پر معیار کی جانچ کو سخت کر رہے ہیں۔ عالمی کمپنیاں اس اقدام سے ناراض۔
EPAPER
Updated: June 12, 2025, 11:56 AM IST | Agency | New Delhi
پیوش گوئل ’میک ان انڈیا‘ مہم کو تقویت دینے کیلئے درآمدی اشیا پر معیار کی جانچ کو سخت کر رہے ہیں۔ عالمی کمپنیاں اس اقدام سے ناراض۔
وزیر صنعت پیوش گوئل ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کو تقویت دینے کیلئے درآمدی اشیا پر معیار کی جانچ کو سخت کر رہے ہیں۔ کئی عالمی کمپنیاں اسے ایک سرکاری پیچیدگیوں کا میدان قرار دے رہی ہیں۔
مہنگے غیرملکی کھیلوں کے جوتوں اور دیگر مصنوعات کیلئے مشہور بین الاقوامی برانڈ جیسے نائیکی، ادیداس اور پیوما ۲۰۲۶ء کے آخر تک ہندوستانی بازار سے غائب ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان تمام برانڈز کو ہندوستانی معیارات بیورو (بی آئی ایس )سے معیاری تصدیق نامہ (سرٹیفیکیشن) حاصل کرنا ضروری ہے۔لیکن یہ صرف اسپورٹس شوز کی بات نہیں۔ مصنوعات کی ایک وسیع فہرست اب ’’کوالیٹی کنٹرول آرڈرس‘‘ کے دائرے میں آ گئی ہیں اور ان پر بی آئی ایس کا معیاری مہر لازمی ہے۔ ان میں روزمرہ کی اشیا جیسے پریشر ککر، گیس چولہے، بیٹری سیل، موبائل چارجرس کے ساتھ ساتھ صنعتی مصنوعات جیسے سیمنٹ اور سٹیل اسٹرپس شامل ہیں۔
اہم بات یہ کہ۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے بنائے گئے تمام کھلونوں کو بھی بی آئی ایس سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہے۔اس میں لیگو بھی شامل ہے، جو اپنے معیار کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کی مصنوعات۱۴؍ سال سے زائد عمر کے صارفین کے لیے ہیں (جو شاید ایک بہانہ ہے) اور اسے کھلونوں کے معیار کے تحت نہیں آنا چاہیے۔ تاہم، وہ بھی اس پابندی کا شکار ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:لاس اینجلس میں کرفیو، دیگر شہروں میں بھی احتجاج
مارچ میں بی آئی ایس نے امیزون اور فلپ کارٹ کے گوداموں پر ملک بھر میں چھاپے مارے۔ لکھنؤ، دہلی، گڑگاؤں کے علاوہ جنوب میں تمل ناڈو کے کوئمبٹور، سریپیرمبودور اور تروولیور جیسے شہروں میں یہ کارروائی ہوئی۔ بی آئی ایس نے ہزاروں ایسی اشیا ضبط کر لیں جو ناقص معیار کی تھیں یا جن پر بی آئی ایس کا معیاری کنٹرول مہر موجود نہیں تھا۔فلپ کارٹ کے ایک گودام سے تقریباً ۶؍ لاکھ روپے مالیت کے سینکڑوں کھیلوں کے جوتے ضبط کیے گئے۔ جوتے اور کھلونے ضبط شدہ اشیا کی دو بڑی اقسام تھیں، اس کے ساتھ ا سٹینلیس ا سٹیل کے پانی کی بوتلیں بھی تھیں – زیادہ تر بڑے مینوفیکچررز کی بنائی ہوئی ہیں۔
پریس انفارمیشن بیورو کی ریلیز میں کہا گیا: ’’ تلاشی آپریشن کے دوران، بی آئی ایس معیاری مہر کے بغیر مختلف اشیا بشمول انسولیٹڈ فلاسکس، انسولیٹڈ فوڈ کنٹینرز، میٹلک پوٹیبل واٹر بوتلیں، سیلنگ فینز اور کھلونے (کل مالیت ۳۶؍ لاکھ روپے) ضبط کی گئیں۔ پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں فروخت ہونے والی مصنوعات اعلیٰ معیار کی ہونی چاہئیں، جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ عمل درآمد میں ہے۔معیار کی تصدیق کے لیے، بی آئی ایس اہلکاروں کو فیکٹریوں کا دورہ کرنا ہوتا ہے – جو اکثر بیرون ملک ہوتی ہیں۔ بہت سی کمپنیوں نے اپنے بیرون ملک فیکٹریوں کا دورہ کرنےکیلئے بی آئی ایس اہلکاروں کے اخراجات اٹھانے کی پیشکش کی ہے، جسے جانبداری کے اندیشے کے تحت قبول نہیں کیا گیا ہے۔