• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی غزہ امن کمیٹی میں شمولیت کی ایک ارب ڈالر فیس ، امریکہ کی تردید

Updated: January 18, 2026, 5:02 PM IST | Washington

غزہ امن کمیٹی میں شمولیت کیلئے ٹرمپ کے ذریعے ایک ارب ڈالر فیس مقررکرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ امریکہ نے اس کی تردید کی ہے، اسے گمراہ کن قراردیا، تاہم مجوزہ مسودے میں بڑے تعاون کرنے والوں کے لیے مستقل رکنیت کی بات کی گئی ہے۔

US President Donald Trump. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی تردید کردی ہے جن کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے ممالک کو ایک ارب ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی، انہیں گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ تاہم مسودے میں بڑے تعاون کرنے والوں کے لیے مستقل رکنیت کی بات کی گئی ہے۔ اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ ممالک غزہ بورڈ آف پیس میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کریں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امن بورڈ میں شامل ہونے کے لیے کم از کم رکنیت فیس مقرر نہیں۔ یہ بات ٹرمپ کے بورڈ کے اراکین کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جس پر امریکیوں کی اجارہ داری ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے ڈونالڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا

دریں اثناء بلومبرگ نےمجوزہ مسودے  کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ اس کے پہلے چیئرمین ہوں گے اور وہی فیصلہ کریں گے کہ کسے رکنیت کے لیے مدعو کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق فیصلے اکثریت سے لیے جائیں گے، ہر موجود رکن ریاست کا ایک ووٹ ہوگا، جو چیئرمین کی توثیق کے تابع ہوگا۔بعد ازاں ادارے کے حوالے سےمسودے میں کہا گیا ہے، ’ہر رکن ریاست تین سال کی مدت تک خدمات انجام دے گی، جو چیئرمین کی تجدید کے تابع ہوگی۔ تین سالہ رکنیت کی مدت ان رکن ریاستوں پر لاگو نہیں ہوگی جو چارٹر کے نافذ ہونے کے پہلے سال میں امن بورڈ کو نقد فنڈز میں دس ارب ڈالر سے زیادہ کا تعاون کریں گی۔

یہ بھی پڑھئے: ماشاڈو سے نوبیل لینے پر جمی کیمل کی ٹرمپ پر تنقید، کہا ہم شرمندگی سے مر جائیں گے

تاہم وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کے جواب میں کہا، یہ گمراہ کن ہے۔ امن بورڈ میں شامل ہونے کے لیے کم از کم رکنیت فیس مقرر نہیں۔‘اس کے علاوہ کہا گیا، ’یہ صرف ان شراکت دار ممالک کو مستقل رکنیت پیش کرتا ہے جو امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے گہری وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۱۶؍ جنوری  کو ٹرمپ نے بورڈ کے لیے قریبی اتحادیوں کا ایک گروپ نامزد کیا، جس میں ان کے داماد جیرڈ کشنر، سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، اور اسٹیو وِٹکوف شامل ہیں، جو طویل عرصے سے کاروباری ساتھی رہے ہیں اور اب مذاکرات کار بن گئے ہیں۔ ٹرمپ نے میجر جنرل جیسپر جیفرز کو ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی قیادت کرنے کے لیے مقرر کیا ہے، جس کا کام غزہ کو محفوظ بنانا اور حماس کی جگہ لینے کے لیے نئی پولیس فورس کو تربیت دینا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک علاحدہ مشاوراتی بورڈ بھی نامزد کیا ہے جس میںٹونی بلیئر، وِٹکوف، ملاڈینوف اور ترکی کے وزیر خارجہ حکان فدان کے ساتھ ساتھ مصر، قطر، متحدہ عرب امارات اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق رابطہ کار ا سگرڈ کاگ کے نمائندے شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK