• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھریلو سطح پر طلب مضبوط، عام بجٹ میں اصلاحات کے تسلسل پر توجہ ہو: سی آئی آئی

Updated: January 18, 2026, 4:08 PM IST | Mumbai

ہندوستان میں کاروباری اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور گھریلو سطح پر طلب مسلسل مضبوط ہورہی ہے۔ ایسے میں حکومت سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ عام بجٹ۲۷۔۲۰۲۶ء میں اصلاحات کو جاری رکھنے پر توجہ دے گی۔ یہ بات کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے اتوار کو جاری تازہ بزنس آؤٹ لک سروے میں کہی۔

Indian Economy.Photo:INN
ہندوستانی معیشت۔ تصویر:آئی این این

مالی سال۲۶ء کی تیسری سہ ماہی (اکتوبر سے دسمبر) میں سی آئی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس مسلسل تیسری سہ ماہی بڑھ کر ۵ء۶۶؍ ہو گیا ہے، جو گزشتہ پانچ سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیاں طلب، منافع اور سرمایہ کاری کے حالات کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
 سی آئی آئی کے سروے کے مطابق، مالی سال ۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں دو تہائی کمپنیوں نے مضبوط طلب درج کی  جبکہ موجودہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ۷۲؍ فیصد کمپنیوں کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی اور تہوارکے سیزن کے دوران اخراجات میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ سروے میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کی بھرتی اور سرمایہ کاری کے منصوبے بھی مثبت ہیں۔
سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہا کہ بڑھتا ہوا اعتماد صنعت کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، جسے مضبوط گھریلو طلب اور اندرونی اصلاحات کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیاں آنے والے مہینوں میں ترقی کی رفتار میں مزید تیزی کی توقع کر رہی ہیں۔ آنے والے عام بجٹ کے حوالے سے سی آئی آئی نے کہا کہ اسے امید ہے کہ حکومت ہندوستان  کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کو جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھئے:برطانوی یوٹیوبر کے ایس آئی شاہ رخ خان سے ملنے کے خواہشمند

انڈسٹری باڈی نے طویل مدتی ترقی اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے پالیسی سازوں کو کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ بجٹ کے حوالے سے انڈسٹری باڈی کی ایک اہم سفارش یہ ہے کہ تقریباً ۱۵۰؍ لاکھ کروڑ روپے کی ترمیم شدہ قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن (این آئی پی) ۰ء۲؍ کے ذریعے اعلیٰ سرمایہ جاتی اخراجات کو جاری رکھا جائے۔سی آئی آئی نے کہا کہ توجہ ایسی منصوبہ جاتی اسکیموں پر مرکوز ہونی چاہیے جو فوری طور پر نافذ کی جا سکیں اور آمدنی پیدا کریں، نیز تنازعات کا تیز تر حل کیا جائے تاکہ بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کو مزید راغب کیا جا سکے۔
 سی آئی آئی نے گھریلو اور غیر ملکی سرمایہ جمع کرنے کے لیے ایک ’’انڈیا ڈیولپمنٹ اینڈ اسٹریٹجک فنڈ‘‘ قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ یہ فنڈ ایم ایس ایم ای، صاف توانائی اور مہارت کی ترقی جیسی گھریلو ترجیحات کی حمایت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کمپنیوں کو اسٹریٹجک غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کی اندور میں آلودہ پانی کے متاثرین سے ملاقات، ایک لاکھ کاامدادی چیک دیا

 تعمیلی بوجھ کم کرنے اور کاروبار کرنے میں آسانی لانے کے لیے، سی آئی آئی نے ایک ہزار کروڑ روپے کے ڈجیٹلائزیشن فنڈ کی تجویز دی ہے، تاکہ ضابطہ جاتی ڈجیٹلائزیشن کو مضبوط کیا جا سکے، جس میں متحدہ انٹرپرائز شناخت، ڈجیٹل ریکارڈ اور حقیقی وقت کی تعمیلی نظام شامل ہوں۔اختراع (انوویشن) کے شعبے میں، سی آئی آئی نے ۱۰؍ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مراکز قائم کرنے کی سفارش کی ہے، جن میں سے ہر ایک کا بجٹ ایک ہزار کروڑ روپے ہوگا اور جو مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور بایوٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK