مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی بحرانوں اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان نے اپنی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 9:08 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی بحرانوں اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان نے اپنی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی بحرانوں اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان نے اپنی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران اختیار کی گئی توانائی سفارت کاری، درآمدی ذرائع میں تنوع اور پیشگی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے ابھیشیک کے ساتھ رشتے پر کہی دل کی بات، بولے: خیالات الگ ہوسکتے ہیں
قومی دارالحکومت میں مرچنٹس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے ہردیپ پوری نے کہا کہ آج کے دور میں توانائی تحفظ کا مطلب صرف ایندھن کی دستیابی یقینی بنانا نہیں، بلکہ عالمی تنازعات، اہم بحری راستوں میں رکاوٹ، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اچانک پیدا ہونے والے بحرانوں کے باوجود ملک کی معیشت کو معمول کے مطابق چلانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ برسوں کے دوران توانائی کے شعبے میں ایسی تیاری کی ہے جس نے عالمی بحرانوں کے دوران متبادل راستے فراہم کیے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے خام تیل اور دیگر توانائی وسائل کی درآمد کے ذرائع کو پہلے کے ۲۷؍ ممالک سے بڑھا کر ۴۱؍ ممالک تک پہنچایا ہے۔ ہردیپ پوری کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی ریفائننگ صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت ۲۱۵؍ ملین میٹرک ٹن سالانہ سے بڑھ کر ۲۶۷ ؍ملین میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کے خوردہ مراکز کی تعداد بھی تقریباً ۵۲ ؍ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی درآمدی ٹرمینلز کی تعداد بھی ۱۱؍ سے بڑھا کر ۲۲ ؍کر دی گئی ہے۔ ان بنیادی ڈھانچہ جاتی اقدامات کے نتیجے میں عالمی توانائی بحران کے دوران ہندوستان میں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار رکھنے، گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی دستیابی یقینی بنانے اور خوردہ ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔
مارچ ۲۰۲۶ میں مغربی ایشیا کے تنازع سے پیدا ہونے والی عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے دوران بھی حکومت نے کہا تھا کہ ہندوستان نے خام تیل کی خریداری کے ذرائع میں مزید تنوع پیدا کیا ہے اور غیر ہرمز راستوں سے آنے والی سپلائی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہردیپ پوری نے کہا کہ پروگرام کا موضوع ’ہندوستان کی توانائی سلامتی: جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنا‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو اس وقت متعدد جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث توانائی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی ہر بڑی معیشت کے لیے ایک اہم ترجیح بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشا سنگھ نے چاندی کا تمغہ جیتا، منو بھاکر بغیر تمغے کے ایشیائی کھیلوں سے باہر
انہوں نے کہا کہ توانائی کے ذرائع میں تنوع، اسٹریٹجک ذخائر، ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ ہندوستان کی توانائی حکمت عملی کے اہم ستون ہیں۔ حالیہ اوپیک-ہندوستان توانائی مذاکرات میں بھی عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام، توانائی سلامتی اور قابلِ اعتماد سپلائی کے لیے ہندوستان اور توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔
مرکزی وزیر نے مغربی بنگال کی توانائی صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت تقریباً ۱۷۶۰۰ ؍کروڑ روپے کے تیل اور گیس سے متعلق منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں سے ریاست کے توانائی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ صنعت، سرمایہ کاری، روزگار اور علاقائی رابطے کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ پوری نے بتایا کہ ۲۰۱۸ ءمیں اشوک نگر میں ہونے والی تیل کی دریافت اب تجارتی پیداوار کے مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً ۱۰۰۰؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے بعد او این جی سی کی جانب سے پیدا کیا گیا خام تیل کا پہلا کھیپ اگست ۲۰۲۶ ءمیں ہلدیہ پہنچا۔ انہوں نے اسے مغربی بنگال کے توانائی شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق ریاست میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے صنعتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔