ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) پیر کو سائن کیا جائے گا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور تمام شعبوں میں مارکیٹ تک رسائی کو فروغ ملے گا۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 9:10 PM IST | New Delhi
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) پیر کو سائن کیا جائے گا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور تمام شعبوں میں مارکیٹ تک رسائی کو فروغ ملے گا۔
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) پیر کو سائن کیا جائے گا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور تمام شعبوں میں مارکیٹ تک رسائی کو فروغ ملے گا۔یہ معاہدہ بھارت منڈپم میں مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل اور ان کے ہم منصب ٹوڈ میکلے کی موجودگی میں سائن کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہوگا۔
اس معاہدے کا مقصد آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرکے ۵؍ ارب ڈالر تک پہنچانا ہے اور اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع کھلنے کی توقع ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی سمیت عالمی غیر یقینی صورتحال تجارتی بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ایف ٹی اے سے نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کو ۴ء۱؍ ارب آبادی والی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ یہ ایک نسل میں ایک بار ملنے والا موقع ہے۔ یہ معاہدہ مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر، خدمات، جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے شعبوں میں آئندہ ۱۵؍ برسوں کے دوران نیوزی لینڈ سے ہندوستان میں اندازاً ۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے بھی راستے کھولے گا۔
معاہدے کے تحت ہندوستانی کمپنیوں کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ہوگی، جبکہ نیوزی لینڈ کو بھارت کو برآمد ہونے والی اپنی تقریباً ۹۵؍ فیصد مصنوعات پر ٹیرف میں چھوٹ یا کمی ملے گی۔ان مصنوعات میں اون، کوئلہ، لکڑی، شراب، سمندری غذا، چیری، ایووکاڈو اور بلو بیریز شامل ہیں۔ تاہم ہندوستان نے گھریلو کسانوں اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے ڈیری، پیاز، چینی، مصالحے، خوردنی تیل اور ربڑ جیسے حساس شعبوں کو ٹیرف چھوٹ کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی کے رنوں کے پہاڑ کو پنجاب نے سر کر لیا
نیوزی لینڈ کو کیوی فروٹ اور سیب جیسے اہم برآمدی مصنوعات پر کوٹہ پر مبنی ٹیرف میں کمی بھی ملے گی۔اس کے ساتھ ساتھ اسے بھیڑ کے گوشت، اون اور جنگلاتی مصنوعات سمیت کئی اشیاء پر ڈیوٹی فری رسائی ہوگی، جبکہ مانوکا شہد، بچوں کی خوراک اور بعض سمندری مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کا فائدہ بھی ملے گا۔ معاہدے کی ایک اہم خصوصیت پیشہ ور افراد کی آسان نقل و حرکت ہے۔ نیوزی لینڈ نے سالانہ ۵؍ہزار ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے عارضی روزگار ویزا فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت انہیں تین سال تک رہنے کی اجازت ہوگی۔ اس میں آئی ٹی، انجینئرنگ، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور تعمیرات سمیت مختلف شعبے شامل ہوں گے، ساتھ ہی یوگا انسٹرکٹرز، آیوش معالجین، شیف اور موسیقی کے اساتذہ جیسے روایتی پیشے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘
معاہدے کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی کے لیے ایک خصوصی ایکشن پلان کے ذریعے زراعت کے شعبے میں تعاون کو بھی مضبوط بنانا ہے، جس میں کیوی، سیب اور شہد جیسے مصنوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے ہندوستانی جغرافیائی اشاریوں (Geographical Indications) کی حمایت کے لیے اپنے قوانین میں ترمیم کرکے ہندوستانی شراب اور اسپرٹ کے رجسٹریشن کو آسان بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ معاہدے میں بہتر ریگولیٹری تعاون، کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے اور سینیٹری و فائٹو سینیٹری اقدامات میں بہتری کے ذریعے غیر ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔