وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عالمی عدم استحکام کے ماحول کے درمیان ہندوستان اور یورپ کے تعلقات ایک سنہرے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 9:10 PM IST | Oslo
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عالمی عدم استحکام کے ماحول کے درمیان ہندوستان اور یورپ کے تعلقات ایک سنہرے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عالمی عدم استحکام کے ماحول کے درمیان ہندوستان اور یورپ کے تعلقات ایک سنہرے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور اس کے تحت ہندوستان اور ناروے نے اپنے باہمی تعلقات کو گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ (سبز اسٹریٹجک شراکت داری) کے درجے تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پانچ ممالک کے دورے کے چوتھے مرحلے میں ناروے کے دو روزہ دورے پر آئے وزیراعظم نریندر مودی نےاوسلو ناروے کے وزیر اعظم یوناس گہر اسٹورے کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج دنیا عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے دور سے گزر رہی ہے۔ یوکرین ہو یا مشرقِ وسطیٰ، دنیا کے کئی حصوں میں تنازعات کی صورتحال برقرار ہے۔ ایسے ماحول میں ہندوستان اور یورپ اپنے تعلقات کے ایک نئے سنہرے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
دونوں ممالک نے تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہندوستان اور ناروے نے آج کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا’’ہم نے پائیداری (استحکام)، سمندری توانائی، ارضیات (جیو لوجی) اور صحت جیسے شعبوں میں تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انجینئرنگ، آرٹفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، سائبر اور ڈیجیٹل جیسے شعبوں میں ہم اپنی یونیورسٹیوں اور اختراع پر مبنی کاروباری ماحولیاتی نظام (انوسٹمنٹ ایکو سسٹم) کو جوڑ کر اپنی شراکت داری کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنائیں گے۔ ہنرمندی کے فروغ (اسکل ڈویلپمنٹ) اور صلاحیت سازی کی نقل و حرکت میں بھی ہمارا تعاون مزید وسیع ہونے جا رہا ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کوگرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کرنا ان میں سب سے اہم فیصلہ ہے۔ اس شراکت داری کے تحت دونوں ممالک صاف توانائی (کلین انرجی) سے لے کر موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) تک، اور سمندری معیشت (بلیو اکانومی) سے لے کر ماحول دوست جہاز رانی (گرین شپنگ) تک، ہر شعبے میں ہندوستان کی وسعت، رفتار اور صلاحیت کو ناروے کی جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ساتھ جوڑیں گے،تاکہ دونوں ممالک کی کمپنیاں مل کر عالمی مسائل کے حل تلاش کر سکیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ناروے آرکٹک خطے کا ایک اہم ملک ہے اور آرکٹک و قطبی تحقیق میں ہندوستان طویل عرصے سے تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان کے آرکٹک ریسرچ اسٹیشن ہماڈری کے آپریشنز کے لیے ہم ناروے کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اسرو اور ناروے کی اسپیس ایجنسی کے درمیان آج ہونے والا مفاہمت نامہ ہمارے خلائی تعاون کو بھی نئی جہتیں یا نیا رُخ عطا کرے گا۔ ان تمام شعبوں میں گہرے تعاون کی بدولت ہمارے سائنسدان موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے، ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی حفاظت کرنے اور انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:جنگلی میوزک نے کامیڈی فلم’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کا دھماکہ دار ٹائٹل ٹریک ریلیز کر دیا
ناروے کے ہند-بحرالکاہل بحری اقدام میں شامل ہونے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ناروے کی گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ ناروے آج ہند-بحرالکاہل اقدام کا حصہ بن رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’دو بڑے بحری ممالک ہونے کے ناطے، ہم مل کر سمندری معیشت (نیل گوں اکانومی)، بحری سیکوریٹی اور استعداد کار میں اضافے (کپیسٹی بلڈنگ) کے لیے تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔ آج ہم نے سہ فریقی ترقیاتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ اب ہم مل کر گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر پروجیکٹس کے ذریعے انسانی ترقی میں اپنا تعاون پیش کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اسکواش کی تاریخ رقم: ۱۸؍ سالہ آمنہ عرفی نئی ورلڈ چیمپئن بن گئیں
انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان اور ناروے قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام، مذاکرات اور سفارت کاری پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کا یہ پختہ موقف ہے کہ فوجی تصادم یا جنگ کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین ہو یا مشرقِ وسطیٰ، ہم تنازعات کے فوری خاتمے اور امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ وزیر اعظم نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آرکٹک سے لے کر خلا تک، ماحول دوست جہاز رانی (گرین شپنگ) سے لے کر سمندری معیشت تک، اور توانائی کے تحفظ سے لے کر غذائی تحفظ (فوڈ سیکوریٹی) تک باہمی تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔