امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے بعد اب ہندوستان کو ڈیوٹی کا جھٹکا دیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان سے امریکہ درآمد ہونےوالے شمسی تونائی (سولر سسٹم ) کے آلات پر ۱۲۶؍ فیصد’’ابتدائی سبسیڈی مخالف ڈیوٹی‘‘عائد کردی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے بعد اب ہندوستان کو ڈیوٹی کا جھٹکا دیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان سے امریکہ درآمد ہونےوالے شمسی تونائی (سولر سسٹم ) کے آلات پر ۱۲۶؍ فیصد’’ابتدائی سبسیڈی مخالف ڈیوٹی‘‘عائد کردی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ چین ہندوستان کے راستے اپنے سستے آلات بھیج رہا ہے جس سے نمٹنے کیلئے یہ قدم اٹھایاگیاہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد سامنے آیا ہے ۔ یہ فیصلہ ایسے وقت کیاگیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ریسپروکل ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔
انڈونیشیا اور لاؤس پر بھی ڈیوٹی لگائی گئی
عدالتی فیصلے کے باوجودٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی محاذ پر جارحانہ رویہ برقرار ہے۔ سولر سسٹم سے جڑی اشیاء پر ڈیوٹی میں اضافہ کی وجہ سے عالمی سولر تجارت میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا اور لاؤس سے آنے والی سولر اشیاء پر بھی بھاری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ انڈونیشیا پر ۸۶؍ سے ۱۴۳؍ فیصد کے درمیان جبکہ لاؤس پر ۸۱؍فیصد ابتدائی ٹیرف طے کیا گیا ہے۔
سبسیڈی کا اثر زائل کرنے کی کوشش
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان ممالک کے برآمد کنندگان کو سبسیڈی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ امریکی مقامی صنعت کاروں کے مقابلے میں کم قیمت پر مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔اس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچتا ہے۔ محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۴ء میں امریکہ نے ہندوستان سے تقریباً ۷۹۲ء۶؍ ملین ڈالر مالیت کی سولر مصنوعات درآمد کیں۔ چند برسوں میں اس تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان، انڈونیشیا اور لاؤس سے مجموعی طور پر تقریباً۴ء۵؍ ارب ڈالر مالیت کی سولر مصنوعات امریکہ درآمد کرتا رہا ہے۔ رواں برس کی پہلی ششماہی میں امریکہ کے کل سولر ماڈیول درآمدات کا۵۷؍ فیصد حصہ انہی تین ممالک سے آیا، جس سے ان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ہندوستانی سولر کمپنیوں کیلئے جھٹکا
نئے ٹیرف کے اثرات ہندوستانی سولر کمپنیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ واری انرجیز اور پریمیر انرجیز جیسی کمپنیاں، جن کے لیے امریکہ ایک بڑا برآمدی بازار رہا ہے، دباؤ میں آ سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈیوٹی کی ۱۲۶؍ فیصد کی شرح برقرار رہی تو ہندوستانی مصنوعات کی مسابقتی قیمت متاثر ہوگی اور برآمدی آرڈرز میں کمی آ سکتی ہے۔یاد رہے کہ۲۰؍ فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت عائد ریسپروکل ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے تجارتی توسیع کے قانون کی دفعہ۱۲۲؍ کے تحت تمام ممالک پر۱۰؍ فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا، جسے۲۴؍گھنٹوں کے اندر بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دیا گیا۔ یہ ٹیرف ۱۵۰؍ دن تک نافذ العمل رہے گا ۔ اس کے بعد اس کی توسیع کیلئے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
واضح رہے کہ ۱۲۶؍ فیصد ڈیوٹی مذکورہ ۱۰؍ فیصد ٹیرف جو بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کردیا گیاکے علاوہ ہے ۔اس لئے سولر سسٹم سے جڑی ہندوستانی درآمدات پر امریکہ میں اب مجموعی طور پر ۱۳۶؍ فیصد ٹیکس عائد ہوگا جس کی وجہ سے ہندوستانی تاجروں کیلئے اس شعبے میں راہیں تقریباً مسدود ہوگئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اتنے زیادہ ٹیکس کے بعد کمپنیوں کا امریکی مارکیٹ میں ٹک پانا تقریباً ناممکن ہے۔