Updated: January 21, 2026, 9:04 PM IST
| davos
الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کی حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اگلے پانچ برسوں میں۶۔۸؍ فیصد تک بڑھے گی جب کہ مضبوط اقتصادی بنیادوں کی وجہ سےنارمل جی ڈی پی (موجودہ قیمتوں پر) ۱۰۔۱۳؍فیصد رہے گی۔
اشونی ویشنو داؤس میں۔ تصویر:پی ٹی آئی
الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کی حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اگلے پانچ برسوں میں۶۔۸؍ فیصد تک بڑھے گی جب کہ مضبوط اقتصادی بنیادوں کی وجہ سےنارمل جی ڈی پی (موجودہ قیمتوں پر) ۱۰۔۱۳؍فیصد رہے گی۔ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سی آئی آئی کے تعاون سے ’’بیٹ آن انڈیا۔ بنک آن فیچر‘‘ کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ ٹیلی کام ٹاورز کو لگانے میں لگنے والے اوسط وقت کو ۲۷۰؍ دن سے کم کرکے سات دن کر دیا گیا ہے، جس میں اب ۸۹؍ فیصد گرانٹ دی جا رہی ہے۔ عزم اور عمل درآمد کے درمیان فرق کو پر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو یقینی بنانا چاہیے کہ بیوروکریسی پالیسی کے مقاصد کے مطابق ہو۔
ویشنو نے صنعت کے اندر چیلنجوں کے بہتر تال میل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ڈیٹا لوکلائزیشن اور ضوابط کو معیاری بنانے کے لیے امریکہ اور یورپ میں کی جانے والی کوششوں کا حوالہ دیا۔ ہندوستان کی اے آئی پالیسی کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ ملک مصنوعی ذہانت کے فن تعمیر کی پانچوں پرتوں ایپلی کیشنز، ماڈلز، چپس، انفراسٹرکچر اور توانائی، اے آئی کو جمہوری بنانے میں صلاحیتیں بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ: افغانستان کی تنزانیہ پر شاندار فتح، ۹؍ وکٹوں سے دھول چٹا دی
انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایپلیکیشنز پر توجہ دے رہا ہے۔ ملک کا مقصد اے آئی سے چلنے والی خدمات کے دنیا کے سب سے بڑے سپلائرز میں سے ایک بننا ہے۔ مسٹر وشنو نے کہا، "ایک اے آئی فن تعمیر کی پانچ پرتیں ہیں: ایپلی کیشنز، ماڈلز، چپس، انفراسٹرکچر، اور توانائی۔ ہم ان پانچوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایپلیکیشن کی سطح پر ہم شاید دنیا میں سب سے زیادہ خدمات فراہم کرنے والے ہوں گے۔ صنعت کی ضروریات کو سمجھنا اور اے آئی ایپلی کیشنز کی تیاری وہ جگہ ہے جہاں سے سرمایہ کاری پر منافع آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:او رومیو ٹریلر جاری: محبت اور انتقام کا خونریز کھیل، شاہد کپور کا خطرناک روپ
ویشنو نے کہا کہ حکومت کی ترجیح اے آئی کی وسیع پیمانے پر تعیناتی ہے۔ جی پی یو کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت ۳۸؍ہزار جی پی یو ایس کو مشترکہ کمپیوٹ سہولت کے طور پر شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کے برعکس جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں جی پی یو ایس تک رسائی کو کنٹرول کر رہی ہیں، ہم نے طالب علموں، محققین اور اسٹارٹ اپس کے لیے عالمی قیمت کے تقریباً ایک تہائی پر حکومت کی طرف سے سبسڈی والی مشترکہ سہولت شروع کی ہے۔ وشنو نے کہاکہ اے آئی پیداواریت اور کارکردگی کو کئی گنا بڑھاتا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت منظم طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہندوستان اس سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھائے۔‘‘