Updated: September 03, 2026, 4:02 PM IST
| Mumbai
ہندوستان نے غیر ملکی زرمبادلہ (فاریکس) کی آمد بڑھانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی ) کی جانب سے شروع کی گئی خصوصی اسکیموں کے ذریعے ۳۸ء۱۳۶؍ ارب ڈالرس کی غیر ملکی کرنسی حاصل کی ہے۔ یہ رقم توقعات سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ملک کے فاریکس ذخائر مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ آر بی آئی کو روپے کو بیرونی دباؤ سے بچانے میں مزید مدد ملے گی۔
آربی آئی کا دفتر۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان نے غیر ملکی زرمبادلہ (فاریکس) کی آمد بڑھانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی ) کی جانب سے شروع کی گئی خصوصی اسکیموں کے ذریعے ۳۸ء۱۳۶؍ ارب ڈالرس کی غیر ملکی کرنسی حاصل کی ہے۔ یہ رقم توقعات سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ملک کے فاریکس ذخائر مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ آر بی آئی کو روپے کو بیرونی دباؤ سے بچانے میں مزید مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:بیت المقدس: اگست میں مسجد الاقصیٰ پر ۵۲۰۹؍ اسرائیلی آبادکاروں کے حملے
آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ۳۸ء۱۳۶؍ ارب ڈالر میں سب سے بڑا حصہ فارین کرنسی (بینک ریزیڈنٹ ڈپازٹس) کا ہے۔ بینکوں نے غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی ) سے تقریباً ۲۲ء۱۲۷؍ارب ڈالرس جمع کیے۔ آر بی آئی نے ۸؍ جون۲۰۲۶ء کو خصوصی امریکی ڈالر فاریکس سویپ سہولت متعارف کرائی تھی۔ اس کا مقصد بینکنگ نظام میں ڈالر کی آمد بڑھانا اور ایسے وقت میں ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط کرنا تھا جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مغربی ایشیا میں کشیدگی ہندوستان کے درآمدی بل پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ اس اسکیم کے تحت بینکوں نے بیرون ملک سے حاصل ہونے والی ڈالر کی رقوم آر بی آئی کے ساتھ سویپ کیں، جس سے مرکزی بینک کے پاس دستیاب غیر ملکی کرنسی کا بفر مزید مضبوط ہوا۔ اس زبردست آمد کے درمیان ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ۲۱؍ اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں ریکارڈ۳۳ء۷۲۹؍ ارب ڈالرس تک پہنچ گئے تھے۔ مضبوط ذخائر آر بی آئی کو ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں ڈالر فروخت کرکے روپے پر دباؤ کم کرنے کی زیادہ صلاحیت دیتے ہیں۔
روپیہ ۲۰۲۶ء میں عالمی عوامل، تیل کی بلند قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث شدید دباؤ میں رہا۔ مئی میں ہندوستانی کرنسی تقریباً ۹۷؍ روپے فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھی، جبکہ بعد میں اس میں کچھ بہتری آئی۔ ماہرین کے مطابق اضافی ڈالر ذخائرآر بی آئی کو روپے میں اچانک اور شدید گراوٹ کی صورت میں زیادہ مؤثر طریقے سے مداخلت کرنے کا موقع دیں گے۔ اس سے درآمدی مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں سے متعلق خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ڈاکٹر نینے نے انوشکا شرما اوروراٹ کوہلی کے لندن منتقل ہونے کی وجہ بتائی
اس اسکیم سے حاصل ہونے والی رقم اس قدر زیادہ رہی کہ ماہرین اقتصادیات کی ابتدائی توقعات بھی پیچھے رہ گئیں۔روئٹرس کے مطابق اقتصادی ماہرین نے تقریباً ۸۰؍ سے۹۰؍ ارب ڈالر کی آمد کا اندازہ لگایا تھا، جبکہ اصل رقم ۱۳۶؍ ارب ڈالر سے زیادہ رہی۔ فارین کرنسی (بینک ریزیڈنٹ ڈپازٹس) اسکیم کو اصل منصوبے کے مطابق ستمبر کے آخر تک جاری رہنا تھا، لیکن غیر معمولی طور پر مضبوط ردعمل کے بعد اسے ۳۱؍ اگست کو مقررہ وقت سے پہلے بند کردیا گیا۔ اس بڑے فاریکس ان فلو سے ہندوستانی بینکوں کی لیکویڈیٹی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ ۳؍ ستمبر کوہندوستانی شیئر بازار میں بینکنگ اور مالیاتی اسٹاکس میں بھی تیزی دیکھی گئی۔