Updated: September 03, 2026, 2:57 PM IST
| Jerusalem
یروشلم گورنریٹ کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق اگست کے دوران ۵۲۰۹؍ اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں دھاوے بولے، جبکہ اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں دو فلسطینی شہید اور ۱۱۴؍ گرفتار ہوئے، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں مسجد الاقصیٰ کے اطراف آبادکاروں کی مذہبی رسومات، فلسطینیوں کے خلاف حملوں اور گھروں و املاک کی مسماری سمیت مختلف کارروائیوں کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔
مسجد اقصیٰ۔ تصویر: آئی این این
یروشلم گورنریٹ نے منگل کو جاری کردہ اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگست میں ۵؍ ہزار ۲۰۹؍ اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں دھاوے بولے، جبکہ اسرائیلی فورسز نے ۲؍ فلسطینیوں کو شہید اور ۱۱۴؍ کو گرفتار کیا، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگست بھر مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی اور یہودی مذہبی رسومات کا سلسلہ جاری رہا اور اس میں شدت بھی دیکھی گئی۔ یہ کارروائیاں مسجد کے احاطے اور اس کے دروازوں کے اطراف اسرائیلی پولیس کی براہِ راست حفاظت میں انجام دی گئیں۔ یروشلم گورنریٹ کے مطابق مسجد الاقصیٰ میں داخل ہونے والے آبادکاروں کی تعداد میں ۱۳؍ اگست کا دن نمایاں رہا، جب ۷۵۱؍ آبادکاروں نے ایک ہی روز مسجد کے احاطے میں داخل ہوکر دھاوا بولا۔ اسرائیلی حکام نے پانچ فلسطینی شہریوں کو مسجد الاقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۵؍ ممالک کے تارک وطن ویزا بحال، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی ختم کی
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی پولیس ۲۰۰۳ء سے اسرائیلی آبادکاروں کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے۔ دوسری جانب یروشلم کے اسلامی اوقاف کے محکمے کا مؤقف ہے کہ مسجد الاقصیٰ مکمل طور پر مسلمانوں کا مقدس مقام ہے اور وہ متعدد مرتبہ اسرائیلی آبادکاروں کے ان دھاووں کو روکنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے حوالے سے گورنریٹ نے بتایا کہ اگست میں دو فلسطینی شہید، ۸۳؍ زخمی اور ۱۱۴؍ گرفتار کیے گئے، جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف ۴۴؍ حملے کیے۔ یروشلم میں گھروں، دیگر تعمیرات اور اراضی کو نشانہ بناتے ہوئے ۴۰؍ انہدام اور زمین صاف کرنے کی کارروائیاں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکام کی جانب سے انہدام یا تعمیراتی کام روکنے سے متعلق ۸۶؍ نوٹس اور احکامات جاری کیے گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹس بھی زیرِ گردش ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرینی ڈرونز کے باعث روسی فضائی حدود خطرناک: زیلنسکی کی ایئرلائنز کو وارننگ
فلسطینیوں کا الزام ہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس، بالخصوص مسجد الاقصیٰ کے احاطے کو یہودیوں نے اور شہر کی عرب و اسلامی شناخت مٹانے کے لیے اقدامات تیز کر رہا ہے۔ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں، قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں، جن میں بیت المقدس بھی شامل ہے، میں اسرائیلی فوج کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔