Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ

Updated: June 11, 2026, 5:30 PM IST | New Delhi

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے ایک گروپ نے قومی سطح کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کو بنیاد بناتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے نیٹ یو جی تنازع، سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے الزامات اور سی بی ایس ای کے ڈِجیٹل تشخیصی نظام پر اٹھنے والے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرنے والی ان خرابیوں نے تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

Education Minister Dharmendra Pradhan. Photo: INN
وزیر تعلیم درمیندر پردھان۔ تصویر: آئی این این

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے ایک گروپ نے بدھ کے روز مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی وزارتِ تعلیم کی نگرانی میں منعقد ہونے والے قومی سطح کے امتحانات میں مسلسل انتظامی ناکامیاں سامنے آ رہی ہیں، جنہوں نے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اور مالی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ آئینی کنڈکٹ گروپ نامی تنظیم نے ایک بیان میں قومی اہلیت و داخلہ امتحان (NEET-UG) سے متعلق تنازعات، سوالیہ پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے کلاس بارہویں کے امتحانات کے لیے متعارف کرائے گئے ڈِجیٹل تشخیصی نظام پر سامنے آنے والی شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

گروپ نے کہا کہ ’’مرکزی وزارتِ تعلیم کی نگرانی میں قومی سطح کے امتحانات کے انعقاد میں بار بار اور غیرمعمولی نوعیت کی ناکامیاں سامنے آئی ہیں، جنہوں نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ اس ’’نظامی ناکامی‘‘ نے لاکھوں طلبہ کے خوابوں اور مستقبل کو متاثر کیا ہے اور میرٹ پر مبنی تعلیمی نظام کی ساکھ کو مجروح کیا ہے۔ گروپ نے خاص طور پر NEET-UG امتحان سے متعلق تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) بار بار سامنے آنے والی خامیوں اور بے ضابطگیوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’مرکزی حکومت نے امتحانات اور داخلوں کے نظام کو ضرورت سے زیادہ مرکزیت دے دی ہے، جبکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اختیارات کی تقسیم خطرات کو کم کرتی ہے اور بڑے پیمانے پر ناکامیوں کے امکانات محدود کرتی ہے۔‘‘ گروپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو سمیت متعدد ریاستی حکومتوں کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنے انڈرگریجویٹ داخلہ نظام کو خود منظم کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن ان مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے گروپ نے کہا کہ اس کے نفاذ میں شدید افراتفری دیکھی گئی۔ بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سیکریٹری کے تبادلے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں غیر قانونی شراب کے خلاف خصوصی مہم ، ۱۴۲؍ افراد گرفتار

گروپ نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ اقدام بہت کم اور بہت دیر سے اٹھایا گیا قدم ہے۔ اس سے پالیسی سازی کی خامیاں، مناسب آزمائشی عمل کی کمی اور نگرانی کی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔‘‘ تنظیم نے مزید کہا کہ صرف سی بی ایس ای کے اعلیٰ عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں ہوگا کیونکہ اس پورے عمل میں اعلیٰ سطح پر بھی فیصلے کیے گئے ہوں گے۔ اپنے بیان میں گروپ نے زور دیا کہ جمہوری نظام میں منتخب نمائندے بالآخر عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ’’جب لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان امتحانی نظام میں قابلِ گریز غلطیوں کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ذمہ داری صرف سرکاری افسران پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ منتخب قیادت بھی اس کی جوابدہ ہے۔‘‘

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ گروپ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور سی بی ایس ای کے تشخیصی نظام کا آزادانہ، غیرجانبدار اور وقت مقررہ عدالتی یا ماہرین پر مشتمل جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ گروپ نے سفارش کی کہ مستقبل میں سوالیہ پرچوں کے تحفظ کے لیے جدید سیکوریٹی اور کرپٹوگرافک نظام متعارف کرائے جائیں اور تمام ڈِجیٹل تشخیصی پلیٹ فارمز کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ قومی سطح پر ان کے نفاذ سے پہلے خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب NEET-UG امتحان اور امتحانی نظام کی شفافیت سے متعلق مسائل ملک بھر میں سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK