Updated: July 30, 2026, 6:04 PM IST
| London
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۷ اکتوبر ۰۲۳ء سے ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستان سے اسرائیل کو برآمد کی جانے والی چھوٹے ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی گاڑیوں پر مشتمل کم از کم ۲۵۹۶ کھیپوں کو ریکارڈ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دانستہ طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دے کر ہندوستان ’نسل کشی معاہدے‘ کے تحت نسل کشی کو روکنے کے اپنے فرض اور ’جنیوا کنوینشنز‘ کا احترام یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستان پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اس خطرے کے باوجود کہ ان کا استعمال غزہ میں جاری نسل کشی میں ہوسکتا ہے، اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی جاری رکھی۔ ادارے نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستان سے اسرائیل کو برآمد کی جانے والی چھوٹے ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی گاڑیوں پر مشتمل کم از کم ۲۵۹۶ کھیپوں کو ریکارڈ کیا ہے۔
ایک رپورٹ بعنوان”میڈ ان انڈیا: دی سپلائی آف ویپنز اینڈ ایمونیشن ٹو اسرائیل“ (Made in India: The Supply of Weapons and Ammunition to Israel) میں یہ انکشافات شائع ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی کے تحقیقاتی ماہرین نے طے کیا کہ ہندوستانی کمپنیوں نے اسرائیل کو ملٹری گریڈ کے ہتھیاروں کیلئے چھوٹے ہتھیاروں کے کم از کم ۳ لاکھ ۹۰ ہزار ۵۱۶ پرزے، ڈرون کے وارہیڈز اور آرٹلری شیل کیسنگز سمیت دھماکہ خیز مواد کے ۵ لاکھ ۶۴ ہزار ۹۷۰ پرزے اور فوجی گاڑیوں کے ۲۹۸ اجزاء ان بڑی اسرائیلی کمپنیوں کو فراہم کئے جو اسرائیلی مسلح افواج کی براہِ راست سپلائر ہیں۔
دستاویزی شکل میں درج کی گئی مخصوص کھیپوں میں غزہ میں تعینات ہتھیاروں کیلئے مشین گن کے پرزے، اسرائیلی کمپنی ’ایلبٹ سسٹمز‘ (Elbit Systems) کو فراہم کئے گئے ۱۵۵ ملی میٹر کے ہائی ایکسپلوسو آرٹلری شیل، ’سکائی اسٹرائیکر‘ لائیٹرنگ میونیشن کیلئے دھماکہ خیز وارہیڈز (جو خان یونس میں ملنے والے ملبے سے مشابہت رکھتے ہیں) اور اسرائیلی ملٹری سپلائرز کیلئے بھیجی گئی بکتر بند گاڑیوں کے اجزاء شامل ہیں۔ نشان دہ کمپنیوں میں سرکاری ملکیت والی ’مونیوشنز انڈیا لمیٹڈ‘ کے ساتھ ساتھ ’پی ایل آر سسٹمز‘ (اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اور اسرائیل ویپن انڈسٹریز کا مشترکہ منصوبہ) اور ’کلیانی سسٹمز‘ (ہندوستانی فوج کی ذیلی کمپنی) شامل ہیں۔
اسرائیلی وصول کنندگان میں ’ایلبٹ سسٹمز‘، ’ریفائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز‘ اور ’اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز‘ شامل ہیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کے ساتھ ایمنسٹی نے پہلے تمام ممالک سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں ان کے کردار کی وجہ سے کاروبار بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے کہا کہ ”ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے باوجود، جو کہ کئی برسوں سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دنیا بھر میں نشر ہو رہی ہے، ہندوستان کی جانب سے اسرائیلی فوج اور دفاعی شعبے کی مسلسل حمایت جاری ہے۔ دانستہ طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دے کر، ہندوستان ’نسل کشی معاہدے‘ کے تحت نسل کشی کو روکنے کے اپنے فرض اور ’جنیوا کنوینشنز‘ کا احترام یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔“
ایمنسٹی نے ہندوستان کے اسلحہ برآمدات کے فریم ورک میں ساخت کی سطح پر ناکامیوں کی بھی نشان دہی کی، جن میں انسانی حقوق کے مناسب جائزوں کا کوئی واضح تقاضہ نہ ہونا اور عدم شفافیت شامل ہے۔ ہندوستان نے ۲۰۱۳ء میں ’آرمز ٹریڈ ٹریٹی‘ پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا اور اس کے بعد سے اس پر دستخط یا توثیق نہیں کی ہے۔ ایمنسٹی نے جون اور جولائی ۲ میں ہندوستانی حکومت اور نو نامزد کمپنیوں کو خطوط لکھے، لیکن اشاعت کے وقت تک کوئی جواب نہیں ملا۔