Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند۔ امریکہ تجارتی معاہدے پر ہے پیتل نگری کے برآمد کنندگان کی نظر

Updated: June 26, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

اتر پردیش کے اہم دستکاری برآمداتی مرکز مرادآباد کے پیتل اور ہینڈی کرافٹ انڈسٹری سے وابستہ برآمد کنندگان کی نظریں اس وقت پوری طرح ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

Indo America.Photo:INN
ہند۔امریکہ ڈیل۔ تصویر:آئی این این

اتر پردیش کے اہم دستکاری برآمداتی مرکز مرادآباد کے پیتل اور ہینڈی کرافٹ انڈسٹری سے وابستہ برآمد کنندگان کی نظریں اس وقت  پوری طرح ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رتیک روشن نے رجنی کانت کے ساتھ ’’جیلر ۲‘‘ کی شوٹنگ مکمل کی

مرادآباد کے برآمداتی تناظر میں یہ معاہدہ اس لیے بے حد حساس مانا جا رہا ہے کیونکہ مرادآباد سے ہونے والی کل دستکاری برآمدات کا تقریباً ۵۰؍ سے۶۰؍ فیصد حصہ اکیلے امریکی بازار میں جاتا ہے، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا اور اہم بازار بناتا ہے۔ امریکی ٹیرف پالیسی اور نئے ٹیرف تجاویز پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مرادآباد ہینڈی کرافٹس ایکسپورٹس اسوسی ایشن (ایم ایچ ای اے) کے صدر نوید الرحمن نے کہا کہ امریکہ ہماری مقامی دستکاری صنعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور وہاں کسی بھی قسم کا اضافی مالی بوجھ یا ٹیرف ہمارے برآمد کنندگان کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو براہ راست متاثر کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہند کو تجارتی بات چیت کے دوران مرادآباد کے برآمد کنندگان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس بڑے بازار میں ہندوستانی مصنوعات کی رسائی کمزور نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھئے:۷۱؍فیصد ہندوستانی شہریوں کی فٹبال ورلڈ کپ وزیٹر ویزا درخواست مسترد

واضح رہے کہ اس سال فروری میں ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے عبوری تجارتی معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت امریکہ نے ہندوستان پر لگائے گئے  ۲۵؍فیصد تادیبی ٹیرف کو ہٹانے اور باہمی ٹیرف کو  ۲۵؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۸؍ فیصد کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ تاہم، اس کے فوراً بعد امریکی سپریم کورٹ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت لگائے گئے باہمی ٹیرف کو منسوخ کر دیا، جس کے بعد امریکہ نے تمام تجارتی شراکت دار ممالک پر ۱۰؍ فیصد کا بنیادی ٹیرف نافذ کر دیا، جس کی مدت ۲۴؍ جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK