رپورٹ کے مطابق ۱۶۰؍سے زائد ممالک سے موصول ہونے والی درخواستوں کی مجموعی منظوری کی شرح ۴۱؍ فیصد رہی، جس کا حوالہ کینیڈین امیگریشن حکام کے اعداد و شمار سے دیا گیا۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 4:06 PM IST | Toronto
رپورٹ کے مطابق ۱۶۰؍سے زائد ممالک سے موصول ہونے والی درخواستوں کی مجموعی منظوری کی شرح ۴۱؍ فیصد رہی، جس کا حوالہ کینیڈین امیگریشن حکام کے اعداد و شمار سے دیا گیا۔
سی ٹی وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کنیڈا نے ۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے ہندوستانی شہریوں کی جمع کرائی گئی ویزا درخواستوں میں سے۷۱؍ فیصد مسترد کر دیں۔مجموعی طور پر۱۲۲۵؍ ہندوستانی شہریوں نے ویزا کے لیے درخواست دی، جن میں سے صرف ۳۵۵؍ درخواستیں منظور ہوئیں۔ فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کینیڈین ویزا درخواستیں جمع کرانے والوں میں ہندوستان چوتھا بڑا ملک تھا جبکہ اس سے پہلے گھانا، کولمبیا اور پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
کنیڈا نے ورلڈ کپ کے لیے کوئی خصوصی ویزا کیٹیگری متعارف نہیں کرائی تھی۔ اس کے بجائے، درخواست گزاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے عام وزیٹر ویزا فارم میں یہ درج کریں کہ وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے سفر کر رہے ہیں، تاکہ ان درخواستوں کا ریکارڈ الگ رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ پر فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کوکچلنے کا الزام
کنیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے ساتھ مل کر فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی میزبانی کر رہا ہے۔ کنیڈا میں ہونے والے ۱۳؍میچز ٹورنٹو اور وینکوور میں کھیلے جا رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ ۱۱؍جون کو شروع ہوا اور ۱۹؍جولائی کو ختم ہوگا۔۱۴؍نومبر سے ۳۱؍ مارچ کے درمیان، کنیڈا امیگریشن حکام نے ۱۶۰؍ سے زائد ممالک اور خطوں سے ورلڈ کپ سے متعلق تقریباً۱۷؍ہزار وزیٹر ویزا درخواستوں پر کارروائی کی۔امیگریشنن اینڈ رفیوجیز سٹیزن شپ کنیڈا کے اعداد و شمار کے مطابق، ان میں سے صرف ۴۱؍ فیصد درخواستیں منظور کی گئیں۔ جن ممالک کے شہریوں کوکنیڈا میں داخلے کے لیے صرف الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن درکار تھی، ان کی منظوری کی شرح ۹۶؍ فیصد رہی جبکہ جنہیں باقاعدہ ویزا درکار تھا، ان کی منظوری کی شرح صرف ۳۲؍ فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھئے:سائی سدرشن کی سنچری، انڈیا ’اے‘ کی پوزیشن مضبوط
سب سے زیادہ یعنی ۱۷۲۵؍ درخواستیں گھانا کے شہریوں کی جانب سے موصول ہوئیں، جن میں سے۱۱؍ فیصد سے بھی کم منظور ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر کولمبیا تھا، جہاں سے۱۶۳۰؍ درخواستیں آئیں اور ان میں سے ۶۹؍ فیصد منظور ہوئیں۔ پاکستان ، جو درخواست گزاروں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر تھا، وہاں سے۱۲۵۰؍ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں منظوری کی شرح ۹؍ فیصد سے کچھ کم رہی۔