بنگلہ دیش نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم طارق رحمان کے دورے کیلئے موافق حالات درکا ر ہیں، ساتھ ہی مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 4:59 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم طارق رحمان کے دورے کیلئے موافق حالات درکا ر ہیں، ساتھ ہی مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا۔
ہندوستان اور بنگلہ دیش رحمان کے نئی دہلی کے پہلے سرکاری دورے کے لیے ممکنہ تاریخوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں۲۱؍ اگست اور ستمبر کے پہلے ہفتے کے مواقع زیر غور ہیں۔ ابھی تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ تاہم بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کا ہندوستان کا دوطرفہ دورہ ممکن بنانے سے پہلے ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا، اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست کا اعادہ کیا ہے۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کے وزارت خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہدالکریم نے کہا کہ’’ دونوں ممالک کے حکام رحمان کے دورے کے امکان پر کئی ہفتوں سے رابطے میں تھے۔ تاہم، اس پیش رفت کو شیخ حسینہ کی۵؍ اگست کی کھلی پریس کانفرنس نے خراب کر دیا، جنہیں عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دے کر سزا سنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ،’’ہم نے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس دورے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ہندوستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور مجرموں کو حوالے کرنے اور ہادی کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ہمارے حوالے کرنے کی ہماری درخواست پر عمل کریں۔ ہم ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ کریم نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش خودمختار مساوات، قومی وقار، عدم مداخلت اور باہمی فائدے کی بنیاد پر پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ’’بنگلہ دیش فرسٹ‘‘ پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔
واضح رہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش طارق رحمان کے نئی دہلی کے پہلے سرکاری دورے کے لیے ممکنہ تاریخوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں۲۱؍ اگست اور ستمبر کے پہلے ہفتے کے مواقع زیر غور ہیں۔ حالانکہ کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے فروری میں طارق رحمان کی انتخابی فتح کے بعد ٹیلی فون پر ابتدائی طور پر دعوت دی تھی۔ نئی دہلی نے بعد میں برکس سمٹ کے لیے رحمان کو ان کی بی آئی ایم ایس ٹی ای سی کے چیئر کی حیثیت سے دعوت نامہ تجدید کیا، جو ستمبر میں دہلی میں منعقد ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز کے بحری راستے پر اتفاق
دریں اثناءگزشتہ ہفتے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا۔۱۰؍ اگست کو ہندوستان کے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش دنیش ترویدی نے بنگلہ دیش کے وزیراعظم رحمان سے ملاقات کی اورعلاحدہ طور پر ڈھاکہ میں وزیر داخلہ سے بھی ملے۔ ہندوستان کے تحقیقاتی و تجزیاتی ونگ (RAW) کے سربراہ پارگ جین بھی مشاورت کے لیے بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں موجود تھے۔ اگلے دن ہائی کمشنر ترویدی دہلی واپس آئے اور وزیراعظم مودی کو پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے عوامی طور پر رحمان کے لیے برکس سمٹ میں شرکت کی دعوت کا اعادہ کیا۔ جبکہ ہائی کمشنر نے اس ماہ کے شروع میں بنگلہ دیش کے وزیر برائے توانائی اقبال حسن محمود سے بھی ملاقات کی اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
بعد ازاں بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈھاکہ نے ہندوستان سے ڈیزل کی فراہمی میں اضافے کا مطالبہ کیا۔شیخ حسینہ کا ہندوستان میں موجود رہنا اور۵؍ اگست کو ان کی جانب سے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کرنے سے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ نے اس تقریب اور انہیں فراہم کیے گئے پلیٹ فارم پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ان کے بیانات سے خود کو الگ کر لیا، اور کہا کہ وہ ان تبصروں کی تائید نہیں کرتی۔