Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر آج سے نئی دہلی میں مذاکرات

Updated: June 01, 2026, 1:07 PM IST | New Delhi

۴؍روزہ گفتگو میں  فروری میں  طے شدہ عبوری معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی کوشش ہو گی، عدالتوں  میں  ٹرمپ کی پسپائی کے بعد ہندوستان کی پوزیشن مضبوط ۔

The visit of the negotiators was already expected after Marco Rubio`s recent visit. Photo: INN
مارکو روبیو کے حالیہ دورہ کےبعد مذاکرات کاروں  کا دورہ پہلے ہی متوقع تھا۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور ہندوستان کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار پیر (یکم جون۲۶ء) سے نئی دہلی میں چار روزہ مذاکرات کا آغاز کررہے ہیں۔ اس کا مقصد فروری میں طے پانے والے عبوری تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت اس کے چیف مذاکرات کار برینڈن لنچ کریں گے جبکہ ہندوستان کے چیف مذاکرات کار درپن جین ہیں، جو محکمہ تجارت میں ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔ 
وزارتِ تجارت کے مطابق دونوں فریق عبوری معاہدہ کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت مختلف شعبوں میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ ان شعبوں میں منڈی تک رسائی، غیر ٹیرفی اقدامات، کسٹمز اور تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی سلامتی کے شعبوں میں ہم آہنگی شامل ہیں۔ ٹیرف معاملے میں  امریکی عدالتوں میں   یکے بعد دیگرے ۲؍ بار لگنے والے جھٹکوں  کےبعد اس بار بات چیت میں ہندوستان کی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہے۔ 
یاد رہے کہ ۷؍فروری کو ہندوستان اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں دوطرفہ تجارتی معاہدہ کے پہلے مرحلے یا عبوری تجارتی معاہدہ کے خدوخال اور فریم ورک کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ اب دونوں ممالک کو اس معاہدے کے قانونی متن کو حتمی شکل دینا ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائنا اور بنگلہ دیش نے صنعتی ترقی کیلئے نکوٹین مصنوعات پر پابندی ہٹائی

اس فریم ورک میں وسیع تر ہند -امریکہ تجارتی معاہدہ کیلئے دونوں ممالک کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔ فریم ورک کے مطابق امریکہ نے ہندوستان پر عائد محصولات کو۵۰؍ فیصد سے کم کرکے۱۸؍ فیصد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم اس محاذ پر صورتحال بدل گئی ہے کیوں  کہ امریکی سپریم کورٹ  نے ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ مختلف ممالک پر عائد کئے گئے ٹیرف کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جو ۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کیا تھا اس میں  ۲۵؍ فیصد روسی تیل کی خریداری پر بطور سزا عائد کیاگیاتھا اور ۲۵؍ فیصد ہندوستانی اشیاء پر عمومی ٹیرف تھا جو ٹرمپ کی صدارت سے پہلے ۳؍ سے ۴؍ فیصد ہوا کرتا تھا۔ یہ اضافہ شدہ ٹیرف جسے کم کر کے ۱۸؍ فیصد کرنے کی تجویز فروری کو طے پانے والے تجارتی معاہدہ میں  رکھی گئی تھی، کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے چکاہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ہندوستانی فریق بدلے ہوئے حالات میں  ملک کیلئے کیا حاصل کرنے میں  کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ اس لئے بھی اہم ہےکہ مذکورہ ٹیرف کو۲۰؍ فروری کو امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ٹرمپ نے فوری طور پر۲۴؍ فروری سے ۱۰؍ فیصد کا عمومی ٹریف تمام ممالک پر عائد کردیاتھا۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر فروری میں طے شدہ ہندوستان اور امریکہ کے چیف مذاکرات کاروں کی ملاقات ملتوی کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں اپریل میں واشنگٹن میں دونوں فریقوں کی ملاقات ہوئی، جب درپن جین کی سربراہی میں ہندوستانی وفد۲۰؍ سے ۲۳؍ اپریل۲۶ء تک امریکہ کے دورے پر گیا تھا۔ اسی بات چیت کو آگے بڑھانے کیلئے امریکی وفد یکم سے۴؍ جون تک ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔ چونکہ امریکہ میں محصولات کے نظام میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، اس لیے دونوں فریق معاہدے کے فریم ورک پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش میں مہنگی بجلی کا جھٹکا، جون کے بل میں ۱۰؍ فیصد فیول سرچارج

متفقہ فریم ورک کے تحت ہندوستان نے امریکی صنعتی مصنوعات اور خوراک و زرعی شعبے کی وسیع رینج کی مصنوعات پر محصولات ختم یا کم کرنے کی تجویز دی تھی۔ ان میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز ، جانوروں کے چارے کیلئے سرخ جوار، درختی میوہ جات، تازہ اور پراسیس شدہ پھل، سویابین کا تیل، شراب اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔ نئی دہلی نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ آئندہ ۵؍برسوں کے دوران امریکہ سے ۵۰۰؍ ارب ڈالر مالیت کی توانائی مصنوعات، طیارے اور ان کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات اور کوکنگ کول خریدے گا۔ 
یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ہندوستان کو اپنے حریف ممالک پر تقابلی برتری حاصل تھی لیکن اب جبکہ امریکہ کے تمام تجارتی شراکت داروں پر یکساں ۱۰؍ فیصد محصولات نافذ ہیں، اس معاہدہ کو نئی صورتحال کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہو گیا ہے۔ مزید برآں، مارچ میں امریکی تجارتی نمائندے نے ہندوستان سمیت کئی ممالک کے خلاف سیکشن۳۰۱؍ کے تحت دو یکطرفہ تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا تعلق اضافی پیداواری صلاحیت اور عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے میں ناکامی سے متعلق الزامات سے ہے۔ ہندوستان نے دونوں جانچ میں امریکی تجارتی نمائندے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے نوٹس میں ان دعوؤں کی تائید کیلئے کوئی مضبوط اور معقول بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK