Updated: July 10, 2026, 8:55 PM IST
| Indor
سابق آئی اے ایس افسر اور مصنف نیاز خان نے ہندوستان میں مسلمانوں کو ماب لنچنگ سے بچنے کیلئے اپنا روایتی لباس تبدیل کرنے کا مشورہ دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے جمہوریت، سیاست اور ماحولیات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیانت دار افراد سے سیاست میں آنے کی اپیل کی۔
سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان۔ تصویر: آئی این این
مدھیہ پردیش کیڈر کے سابق آئی اے ایس افسر اور مصنف نیاز خان نے یہ کہہ کر تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کے واقعات میں اپنی شناخت سے بچنے کیلئے اپنا روایتی لباس تبدیل کر لینا چاہئے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں نیاز خان نے دعویٰ کیا کہ ماب لنچنگ کا شکار ہونے والے بہت سے مسلمانوں کی شناخت اس لئے آسانی سے ہو گئی کیونکہ وہ کرتا، پائجامہ، داڑھی اور ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مسلمان ترک مسلمانوں کی طرح لباس اختیار کریں تاکہ ان کی مذہبی شناخت فوری طور پر ظاہر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ایودھیا: مجوزہ مسجد منصوبہ مسلم برادری کی عدم دلچسپی کی وجہ سے محدود کر دیا گیا
انہوں نے لکھا:’’ ہندوستان میں مسلمانوں کی زیادہ تر ماب لنچنگ اس وقت ہوئی جب وہ کرتا، پائجامہ، داڑھی اور ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ اس لباس سے ان کی شناخت آسانی سے ہو جاتی ہے۔ ماب لنچنگ سے بچنے کیلئے مسلمانوں کو اپنا لباس اور حلیہ تبدیل کر لینا چاہئے۔ انہیں ترک مسلمانوں کی طرح لباس پہننا چاہئے تاکہ ان کی شناخت پوشیدہ رہے۔ ‘‘
جمہوریت اور طرزِ حکمرانی پر تبصرہ
ایک اور پوسٹ میں نیاز خان نے مختلف ممالک میں جمہوریت کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہت سے آزاد ممالک نے جمہوریت تو اختیار کر لی، لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہیں اپنایا۔ انہوں نے لکھا’’بہت سے آزاد ممالک نے جمہوریت اختیار کی، لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہیں اپنایا۔ جمہوریت کے نام پر لیڈر اور افسران بے تحاشا دولت لوٹتے ہیں، جبکہ عوام مفت سہولتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا
دیانت دار افراد کو سیاست میں آنے کی اپیل
۹؍ جولائی کو ایک اور پوسٹ میں نیاز خان نے ماحولیات اور سیاست پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مادّہ پرستی نے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لوگوں کو اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ سابق آئی اے ایس افسر نے یہ بھی کہا کہ مالی طور پر مستحکم اور دیانت دار افراد کو سیاست میں آنا چاہئے، کیونکہ ان کے مطابق مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو منتخب کرنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔