• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی خاندانی سرمایہ کاری کا اسٹارٹ اَپس میں بڑھتا رجحان: رپورٹ

Updated: October 11, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

دولت اور اثاثوں کے انتظام کی ذمہ داری نئی نسل کے ہاتھوں میں منتقل ہونے کے ساتھ یہ ادارے نئے کاروباری منصوبوں، سماجی اثرات پر مبنی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی منڈیوں میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

Start Ups.Photo:INN
اسٹارٹ اپس۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانمیں خاندانی سرمایہ کاری ادارے، جنہیں فیملی آفسز کہا جاتا ہے، ملک کے سرمایہ کاری کے منظرنامے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، دولت اور اثاثوں کے انتظام کی ذمہ داری نئی نسل کے ہاتھوں میں منتقل ہونے کے ساتھ یہ ادارے نئے کاروباری منصوبوں، سماجی اثرات پر مبنی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی منڈیوں میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے  ہندوستان کے اسٹارٹ اَپ شعبے کو سرمایہ حاصل کرنے کے نئے مواقع مل رہے ہیں، جبکہ دولت مند خاندان اپنی سرمایہ کاری کو روایتی ذرائع سے آگے بڑھا کر ٹیکنالوجی اور مستقبل کے کاروباروں میں متنوع بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں صنعتی اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ۳۰۰؍ سے زیادہ فیملی آفسز کام کر رہے ہیں، جو مجموعی طور پر ۳۰ ؍ارب امریکی ڈالر سے زائد کے اثاثوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان اداروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے دولت مند خاندان اب صرف روایتی کاروبار، جائیداد اور حصص بازار تک محدود نہیں رہنا چاہتے، بلکہ نئی کمپنیوں اور اختراعی کاروباری منصوبوں میں بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ایسے خاندانوں کی تعداد، جن کے اثاثوں کی مالیت ۳؍ کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ ہے، ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۱۶؍ ہزار تھی، جس کے ۲۰۳۰ء تک بڑھ کر ۲۶ ؍ہزار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، آئندہ ایک دہائی کے دوران ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہونے والی دولت کی مالیت ۱ء۳ ٹریلین سے ۱ء۵ ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ سلمان رشدی کی قاتلانہ حملے سے متعلق یادداشت کو اسٹیج پر پیش کریں گے

دولت کی اس بڑے پیمانے پر منتقلی سے سرمایہ کاری کی ترجیحات میں بھی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ نئی نسل کے سرمایہ کار عموماً ٹیکنالوجی، اختراع، عالمی کاروبار اور متبادل سرمایہ کاری کے مواقع میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس رجحان سے فیملی آفسز کے لیے سرمایہ کاری کے نئے شعبے کھل رہے ہیں اور اسٹارٹ اَپس کو ایسے سرمایہ کاروں تک رسائی مل رہی ہے جو طویل مدت تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں نصف سے زیادہ فیملی آفسز میں ہزار سالہ نسل اور جنریشن زی کے افراد سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ نئی نسل کی شمولیت سے سرمایہ کاری کے طریقوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اور روایتی اثاثوں کے ساتھ متبادل سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار اور نئے تجارتی ماڈلز کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی رجحان کے باعث صحت کی ٹیکنالوجی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں کام کرنے والے اسٹارٹ اَپس فیملی آفسز کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ۳۰ ؍فیصد فیملی آفسز اب روایتی سرمایہ کاری کے ذرائع کے مقابلے میں اسٹارٹ اَپس میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ دولت مند خاندان اب مستقبل میں ترقی کے امکانات رکھنے والے کاروباروں میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ ہیں۔
فیملی آفسز کی حمایت سے ہونے والی اسٹارٹ اَپس سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسی سرمایہ کاری ۲۰۲۳ء میں ۸۷۶ء۷ ملین امریکی ڈالر تھی، جو ۲۰۲۴ء میں بڑھ کر ۱ء۶۲ ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس طرح ایک سال کے دوران فیملی آفسز سے منسلک اسٹارٹ اَپ سرمایہ کاری تقریباً دوگنی ہوگئی۔ماہرین کے مطابق، اس اضافے کی ایک بڑی وجہ طویل مدتی سرمایہ، یعنی ’’صبر آزما سرمایہ‘‘ یا صبر کے ساتھ طویل مدت تک برقرار رہنے والی سرمایہ کاری، کی دستیابی ہے۔ روایتی وینچرکیپٹل فنڈز اکثر اپنے سرمایہ کاروں کو مقررہ مدت میں منافع دینے کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ فیملی آفسز نسبتاً طویل مدت کے نقطۂ نظر کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس سے نئے کاروباروں کو اپنی مصنوعات بہتر بنانے، کاروبار پھیلانے اور منافع بخش بننے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کی ٹیم کو الوداع کہنے کے بعد پہلے ہی میچ میں میسی کے انٹر میامی کیلئے ۲؍ گول

ہندوستان کے کئی معروف خاندانی سرمایہ کاری ادارے اپنے روایتی کاروباروں سے آگے بڑھ کر نئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ستوا گروپ کے فیملی آفس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنایا ہے، جبکہ ارتھا انڈیا وینچرز ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اَپس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے نے اویو جیسے اسٹارٹ اَپ میں بھی سرمایہ لگایا ہے۔ ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ خطرات رکھتی ہے، لیکن کامیابی کی صورت میں ان کے ترقی کرنے کے امکانات بھی نمایاں ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیملی آفسز اپنی سرمایہ کاری کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے مستقبل کے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسٹارٹ اَپس کے علاوہ سماجی اثرات پر مبنی سرمایہ کاری، جسے امپیکٹ انویسٹنگ کہا جاتا ہے، ہندوستان کے دولت مند خاندانوں میں مقبول ہو رہی ہے۔ اس طرز کی سرمایہ کاری میں مالی منافع کے ساتھ سماجی یا ماحولیاتی بہتری کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ۹۰۰؍ سے زیادہ دولت مند خاندانوں نے سماجی اثرات پر مبنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، جن میں سے کئی نے اپنے فیملی آفسز کے ذریعے سرمایہ فراہم کیا۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا ایک طبقہ اب صرف مالی منافع کے بجائے صحت، تعلیم، ماحولیات اور معاشرتی ترقی جیسے شعبوں میں مثبت تبدیلی لانے والے کاروباروں میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK