جامعہ عربیہ منہاج السنہ مالونی میں تعزیتی نشست میں علماء اور ان کے شاگردوں نے مولانا کے محاسن کا تذکرہ کیا اور کہا :مولانا عہد ساز اور شخصیت سازتھے۔مولانا کی دیگر خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کے انتقال پر جامعہ عربیہ منہاج السنہ مالونی میں منعقد ہ تعزیتی نشست کا منظر۔تصویر: آئی این این
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کا انتقال موت العالم موت العالم کے مصداق ہے۔ ان کے انتقال سے جو علمی خلاء پیدا ہوا ہے اس کا بآسانی پرُ ہونا محال ہے۔ جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں منعقدہ تعزیتی نشست میں علماء نے اپنے انداز میں مولانا مرحوم کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔مفتی محمد انصار قاسمی نے کہا کہ’’ مولانا سعیدالرحمٰن کی خدمات تین نسلوں پر محیط ہیں۔ آپ ؒنے فقہ میں کمال حاصل کیا اور حدیث میں تخصص کیا۔ آپ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب جس شخصیت کی تعزیت کے لئے جمع ہیں وہ ایک عالم کی موت نہیں بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ تعزیت کا مقصد جانے والے کے محاسن کا تذکرہ اور ان کی خوبیوں سے خود کو آراستہ کرنا ہے۔ آپ کے نمایاں اوصاف میں استقامت اور دیانت داری سب سے نمایاں وصف تھا۔ ‘‘
مولانا محمد رضوان ندوی نے کہا کہ’’ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی عہد ساز اور شخصیت ساز تھے۔ بڑے بڑے علماء نے خواہ وہ ملکی سطح پر ہوں یا بیرون ملک آپ سے استفادہ کیا ۔ عربی مجلہ البعث الاسلامی میں شائع ہونے والے آپ کے مضامین اور اداریے سند کا درجہ رکھتے تھے،اسے انتہائی قدر نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، عربوں نے بھی آپ کی زبردست صلاحیت نہ صرف لوہا مانا بلکہ ان سے استفادہ بھی کیا۔‘‘مولانا رضوان ندوی نے اپنے استاد کے دیگر محاسن کے ساتھ نظافت، اوقات کی سختی سے پابندی، وقت پر درس گاہ میں حاضری، طلبہ سے شفقت، علیل ہونے پر یا کسی ضرورت پر طلبہ کی خبرگیری وغیرہ کے تعلق سے تذکرہ کیا۔‘‘
قاری سعید الرحمٰن نے کہا کہ ’’مولانا سے ملاقات کے دوران ان کی سادگی نے سب سے زیادہ انہیں متاثر کیا۔‘‘ ان کے مطابق ’’حیرت ہوتی ہے کہ ۷۵؍سال تک آپ نے تسلسل کے ساتھ بیک وقت درس و تدریس، تصنیف وتالیف، البعث الاسلامی کی ادارت، دنیا کے مختلف ملکوں میں دعوتی اسفار، درجنوں کتابوں کی تصنیف، ۴۰؍سال سے زائد عرصے تک امامت وخطابت اور ۲۶؍سال تک ندوہ کا اہتمام وغیرہ ذمہ داریاں کس طرح انجام دیں؟ اس میں ہم سب کے لئے سبق ہے اور نصیحت بھی ۔‘‘مولانا بنی نعیم حسنی نے کہا کہ’’ مولانا نے ۷۵؍ سال تک ندوہ میں خدمات انجام دیں، آپ کی علمی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کی زندگی کے مختلف گوشوںکو سامنے رکھتے ہوئے استفادہ کیا جائے، اس میں ہم سب کے لئے بڑا درس ہے۔‘‘
مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا کہ’’ تعزیتی نشست دراصل اپنے بڑوں کو یاد کرنے اور ان کےرفع ِ درجات کے لئے دعا کا ایک ذریعہ ہے۔یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔‘‘تعزیتی نشست کی نظامت محمد عفان نے کی اور کہا کہ’ ’مولانا کی رحلت ایک عظیم سانحہ ہی نہیں ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ‘‘
اس تعزیتی نشست میں کئی علماء، ائمہ، اساتذہ اور اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔