Updated: August 14, 2026, 7:11 PM IST
| New Delhi
بلجیم اور نیدرلینڈز میں ہفتے سے شروع ہونے والے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ہندوستان اپنی شاندار روایات اور پرانے وقار کو بحال کرنے اور ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے پُرعزم نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے جہاں اس کی نظریں ۱۹۷۵ء کے بعد ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے پر ہوں گی۔
بلجیم اور نیدرلینڈز میں ہفتے سے شروع ہونے والے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ہندوستان اپنی شاندار روایات اور پرانے وقار کو بحال کرنے اور ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے پُرعزم نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے جہاں اس کی نظریں ۱۹۷۵ء کے بعد ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے پر ہوں گی۔
ورلڈ کپ میں ہندوستان کی واحد کامیابی کو ۵۱؍ سال گزر چکے ہیں، لیکن ۱۹۷۵ء میں کوالالمپور میں کپتان اجیت پال سنگھ کی قیادت میں حاصل کیا گیا خطاب آج بھی ہندوستانی ہاکی کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ آزادی کے دن کے موقع پر شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان ہفتہ کو ویلز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:گیانا ایجمین نے جمائیکا کنگز مین کو چھ وکٹ سے ہرا دیا
کپتان ہرمَن پریت سنگھ اور ان کی ٹیم کے لیے چیلنج ماضی کی کامیابیوں کو تحریک میں بدلنے اور عالمی سطح پر مضبوط نتائج حاصل کرنے کا ہے۔ ہرمَن پریت بحیثیت کپتان اپنا دوسرا ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ وہ ۲۰۲۳ءکے ٹورنامنٹ میں بھی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں اور اجیت پال سنگھ کے بعد دو ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کپتانی کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن جائیں گے۔ ہندوستان کی حالیہ تیاریوں نے بھی امیدیں بڑھائی ہیں۔ ٹیم نے ایف آئی ایچ پرو لیگ کے آخری مرحلے میں موجودہ عالمی چیمپئن جرمنی اور اولمپک چیمپئن نیدرلینڈز کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ اس نے روایتی حریف پاکستان کو بھی دو مرتبہ شکست دی، جبکہ شوٹ آؤٹ میں انگلینڈ کو بھی ہرایا ہے۔
ورلڈ کپ میں ہندوستان کو انگلینڈ اور پاکستان کے ساتھ پول ڈی میں رکھا گیا ہے۔ ویلز کے خلاف ابتدائی میچ میں کامیابی ٹیم کے اعتماد اور رفتار کے لیے اہم ہوگی، کیونکہ اس کے بعد۱۷؍اگست کو انگلینڈ اور ۱۹؍ اگست ۲۰۲۶ءکو پاکستان کے خلاف مقابلے ہوں گے۔ مختصر پول مرحلے کے باعث ہر میچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ میں روایتی کوارٹر فائنل مرحلہ نہیں ہوگا۔ ابتدائی مرحلے کے ہر پول کی سرفہرست دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، جہاں ٹیموں کو پول ای اور ایف میں تقسیم کیا جائے گا۔ ان پولز کی سرفہرست دو دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ ابتدائی مرحلے میں حاصل کیے گئے بعض پوائنٹس اور نتائج بھی اگلے مرحلے میں شمار ہوں گے، جس سے ہر میچ مزید اہم ہوجاتا ہے۔
ہندوستان کے لیے تجربہ بھی بڑی طاقت ہوگا۔ مندیپ سنگھ اور من پریت سنگھ اپنا چوتھا ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ من پریت ہندوستان کی جانب سے ریکارڈ ۴۱۷؍ بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں۔ ان کے ساتھ ہرمَن پریت سنگھ، ہاردک سنگھ، امیت روہیداس، وویک ساگر پرساد، سمیت اور نیل کانت شرما تجربہ کار کور کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ٹیم میں آٹھ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں شرکت کریں گے۔ اس طرح تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ نوجوان جوش کا بھی امتزاج موجود ہے۔ ٹیم کے چیف کوچ کریگ فلٹن نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی ٹیم میں موجود تنوع ہے، جہاں اولمپکس اور ورلڈ کپ کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ نوجوان کھلاڑی بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’آواراپن ۲‘‘ کیوں بنانا پڑی؟ مصنف بلال صدیقی نے راز سے پردہ اٹھایا
دفاعی کھلاڑی یش دیپ سیواچ کے لیے یہ ورلڈ کپ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اسی ملک میں اپنا عالمی کپ ڈیبیو کریں گے جہاں ان کی والدہ پریتم سیواچ بھی ورلڈ کپ میں ہندوستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ ہندوستان کے دونوں گول کیپر سورج کرکیرا اور موہت ایچ ایس بھی پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے۔ ہندوستانی ٹیم میں مختلف نسلوں کا امتزاج نظر آتا ہے، جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ نئی نسل کے کھلاڑی اپنی شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ہرمَن پریت کی قیادت، من پریت کا تجربہ اور ہاردک، امیت، وویک، سمیت اور نیل کانتھ کا تحمل ٹیم کی مضبوط بنیاد ہے۔ چیف کوچ کریگ فلٹن نے کہا کہ ہندوستان نے اولمپکس میں شاندار تاریخ رقم کی ہے، لیکن ورلڈ کپ میں آخری بار ۵۱؍ سال پہلے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اب ہندوستانی ہاکی کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنا چاہتی ہے اور یہی اس کا بڑا ہدف ہے۔