• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی ڈراما ’’درِ نجات‘‘ میں ہندوستانی زیورات کے برانڈ کی جھلک

Updated: October 06, 2026, 10:18 PM IST | New Delhi

پاکستانی ڈراما ’’درِ نجات‘‘ کی حالیہ قسط میں ایک ہندوستانی زیورات کے برانڈ کی نمایاں موجودگی نے ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔

Show Image.Photo:INN
شو امیج۔ تصویر:آئی این این

پاکستانی ڈراما ’’درِ نجات‘‘ کی حالیہ قسط میں ایک ہندوستانی زیورات کے برانڈ کی نمایاں موجودگی نے ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ڈرامے میں زیورات کے برانڈ کا نظر آنا اتنا غیر متوقع تھا کہ انٹرنیٹ پر ناظرین اس پر تبصرے اور دلچسپ ردعمل دے رہے ہیں۔ بعض صارفین نے اسے مزاحیہ انداز میں ’’پاکستانی ڈرامے میں کیرالا کا سونا‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے اشتہاری تشہیر یا مصنوعات کی نمائش سے جوڑا۔
یہ معاملہ خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بنا کیونکہ’’درِ نجات‘‘ پاکستانی تفریحی دنیا میں مقبولیت حاصل کررہا ہے اور اس کی حالیہ قسط میں کہانی کے ساتھ ساتھ کرداروں کے لباس اور زیورات بھی ناظرین کی دلچسپی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اے آر وائی ڈجیٹل کے مطابق یہ ڈراما عمیرہ احمد نے تحریر کیا ہے اور اس میں شہریار منور، درِفشاں سلیم، نعمر نواز خان، فرحان طاہر، رومیسہ خان، نادیہ افغان، صبا حمید اور ثانیہ سعید سمیت متعدد فنکار شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سنجے دت کی ’’ہندوستان میں سکون محسوس نہیں ہوتا‘‘ والے بیان پر نئی وضاحت

حالیہ قسط میں درِفشاں سلیم کے کردار زریاب  کے نکاح کا منظر بھی خاص طور پر زیر بحث آیا۔ اداکارہ نے ہاتھی دانت جیسے ہلکے رنگ کا روایتی لباس، چُوڑیدار اور سنہری و ہاتھی دانت کے امتزاج والی چادر زیب تن کی، جسے فیشن شائقین نے پسند کیا۔ یہ چادر  لاج بائی لاج ونتی  کی بتائی گئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی چادر اس سے قبل پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر بھی جنوری ۲۰۲۵ء میں یشما گل کی بہن کے نکاح میں پہن چکی ہیں۔
ہندوستانی زیورات کے برانڈ کی جھلک نے اس فیشن بحث کو ایک مختلف رخ دے دیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ پاکستانی ڈرامے میں  ہندوستانی برانڈ کی مصنوعات کس طرح دکھائی گئیں  جبکہ کچھ ناظرین نے اسے معمول کی  مصنوعات کی تشہیری نمائش  قرار دیا۔ بعض تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ برانڈ ممکنہ طور پر بین الاقوامی سطح پر دستیاب ہونے کی وجہ سے پاکستانی ناظرین کے لیے بھی قابل رسائی ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی اپنے انٹر نیشنل کریئر کاآخری میچ کھیلیں گے

’’درِ نجات‘‘ یکم اگست ۲۰۲۶ ءکو اے آر وائی ڈجیٹل پر شروع ہوا تھا۔ ڈرامے کی کہانی عمیرہ احمد نے لکھی ہے، جبکہ مرکزی کردار شہریار منور اور درِفشاں سلیم ادا کررہے ہیں۔ اے آر وائی ڈجیٹل کی ویب سائٹ پر ڈرامے کی تازہ اقساط بھی دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ ناظرین میں مسلسل توجہ حاصل کررہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ بحث صرف ڈرامے کی کہانی تک محدود نہیں رہی بلکہ لباس، زیورات اور برانڈز کی موجودگی بھی ناظرین کی گفتگو کا موضوع بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناظرین پاکستانی ڈراموں میں دکھائے جانے والے فیشن اور مصنوعات کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ تاہم اس بھارتی برانڈ کی موجودگی کو باقاعدہ تشہیری معاہدہ قرار دینے کے لیے فی الحال کوئی واضح سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
’’درِ نجات‘‘ میں ہندوستانی زیورات کے برانڈ کی موجودگی  نے ڈرامے کی مقبولیت کے ساتھ ایک نئی سوشل میڈیا بحث کو جنم دے دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ناظرین زریاب کے نکاح کے لباس اور زیورات کو پسند کررہے ہیں، وہیں دوسری جانب بھارتی برانڈ کی جھلک نے پاکستانی اورہندوستانی صارفین دونوں کو تبصرے کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK