Updated: August 03, 2026, 10:09 PM IST
| Tel Aviv
فلسطینی کمیشن برائے امورِ اسیران و سابق اسیران نے کہا ہے کہ اسرائیل کی میگڈو جیل (Megiddo Prison) میں فلسطینی قیدی شدید بھوک، طبی غفلت، جسمانی تشدد اور غیر انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق وکیلوں کی حالیہ ملاقاتوں میں قیدیوں کی بگڑتی ہوئی صحت، خوراک کی شدید قلت، صفائی کے ناقص انتظامات اور خارش کے پھیلاؤ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
فلسطینی کمیشن برائے امورِ اسیران و سابق اسیران نے اسرائیل کی شمالی علاقے میں واقع میگڈو جیل میں قید فلسطینیوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں قیدیوں کو مناسب خوراک، طبی سہولتوں اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس کے وکیلوں نے حالیہ دورے کے دوران جن حالات کا مشاہدہ کیا، وہ ’’انتہائی سخت اور غیر انسانی‘‘ تھے۔ رپورٹ میں خاص طور پر محمد سوافطہ نامی ۲۰؍ سالہ فلسطینی قیدی کا ذکر کیا گیا، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طوباس سے تعلق رکھتے ہیں اور ۱۷؍ جون ۲۰۲۵ء سے اسرائیلی حراست میں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ’’محمد سوافطہ جوڑوں کی سوزش، معدے کے وائرل انفیکشن اور آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ انہیں آنکھ کے انفیکشن کا علاج دیا گیا، لیکن ان کی حالت اب بھی ایسی ہے کہ انہیں چلنے کے لیے واکر کی ضرورت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چلی: سب سے بڑے ڈجیٹل کیمرے نے ۵؍ لاکھ سے زائد کہکشائیں ایک ہی تصویر میں قید کیں
کمیشن کے مطابق جیل میں قیدیوں کو اتنی کم مقدار میں خوراک دی جا رہی ہے کہ ان کے وزن میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ناکافی خوراک کے باعث بیشتر قیدیوں کا وزن کم ہو گیا ہے۔‘‘ بیان کے مطابق جب قیدیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے تو ان کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے وکیلوں سے ملاقات کے دوران نہ تو دستاویزات پر دستخط کر سکتے ہیں اور نہ ہی ٹیلی فون استعمال کر سکتے ہیں۔
کمیشن نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو صفائی کا سامان تقریباً میسر نہیں، جبکہ نہانے کے لیے پانی بھی صرف روزانہ تقریباً ایک گھنٹے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی بیرکوں سے باہر نکلنے کی اجازت بھی دن میں صرف ایک گھنٹے کے لیے دی جاتی ہے، وہ بھی غیر مقررہ اوقات میں۔ فلسطینی اسیران کی نمائندہ تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کو بھوک، طبی غفلت، جسمانی تشدد، تنہائی میں قید اور صفائی کی بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ جیلوں میں خارش (Scabies) کی وبا بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھینس کے گوشت کی فراہمی معطل، علی پور چڑیا گھر میں شیروں کو مٹن دیا جانے لگا
تنظیموں کے مطابق ’’اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی حراست میں ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی قیدیوں کی موت ہو چکی ہے، جن میں سے جون ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ۹۱؍ افراد کی شناخت کی تصدیق کی جا چکی تھی۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً ۹۵۰۰؍ فلسطینی قید ہیں، جن میں ۹۴؍ خواتین اور ۳۵۰؍ سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کی معلومات پر مبنی ہیں۔ کمیشن نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میگڈو جیل اور دیگر اسرائیلی حراستی مراکز میں قیدیوں کے حالات کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ تحقیقات کرائیں اور قیدیوں کو خوراک، طبی سہولتوں اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔