محض ۲۵۰؍ روپئے فی گھنٹہ کیلئے ہندوستانی مزدور اے آئی کمپنیوں کیلئے کام کررہے، جو آگے چل کر انہیں کے متبادل کے طور پر یہ فرائض انجام دیں گے، یہ مزدور کیمرے کے سامنے روزمرہ کے کام انجام دے کر روبوٹ کو ان حرکات کی نقل کرنا سکھا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi
محض ۲۵۰؍ روپئے فی گھنٹہ کیلئے ہندوستانی مزدور اے آئی کمپنیوں کیلئے کام کررہے، جو آگے چل کر انہیں کے متبادل کے طور پر یہ فرائض انجام دیں گے، یہ مزدور کیمرے کے سامنے روزمرہ کے کام انجام دے کر روبوٹ کو ان حرکات کی نقل کرنا سکھا رہے ہیں۔
ہر چيٹ بوٹ کے شائستہ جواب اور انسان نماروبوٹ کے وائرل ڈیمو کے پیچھے ایک پوشیدہ افرادی قوت کام کر رہی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں ہے۔ صرف۱۰۰؍ سے۲۵۰؍ روپے فی گھنٹہ کی اجرت پر ہندوستانی کارکن ڈیٹا لیبلنگ، اے آئی آؤٹ پٹ کی اصلاح، اور کیمرے کے سامنے روزمرہ کے کام انجام دے کر روبوٹس کو ان حرکات کی نقل کرنا سکھا رہے ہیں۔ہندوستان کی ڈیٹا اینوٹیشن انڈسٹری ۲۰۲۰ء-۲۱ء میں تقریباً۲۵۰؍ ملین ڈالر سے بڑھ کر۲۰۳۰ء تک۷؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے ۔یہ ترقی تقریباً مکمل طور پر امریکی اے آئی لیبز کی مانگ سے ہوئی ہے، جنہیں اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے انسانی لیبل شدہ ڈیٹا کی بڑی مقدار درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیلی گرام پر پابندی کے خلاف عرضی پردہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
تصاویر کی ٹیگنگ، آڈیو کی نقل، چیٹ بوٹ جوابات کی درجہ بندی، اور غلطیوں کی نشاندہی جیسے لاکھوں چھوٹے کام جو مل کر بڑے اے آئی ماڈلز کو قابل استعمال بناتے ہیں۔تاہم اس کام میں اجرت کا فرق واضح ہے۔ جہاں ایک جانب امریکیکارکن اسی طرح کے کام کا ۱۵؍ سے ۲۵؍ ڈالر فی گھنٹہ کماتے ہیں، وہیں دوسری جانب ہندوستان، کینیا، فلپائن اور وینزویلا میں کارکنوں کو صرف ایک تا۳؍ ڈالر ملتے ہیں۔ بڑے امریکی اے آئی لیب شاذ و نادر ہی براہ راست بھرتی کرتی ہیں ۔وہ کنٹریکٹنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کیلئے سب سے سستے مزدور مارکیٹ میں بھیج دیتی ہیں، جس سے اجرتیں کم اور کارکن بدلنے کے قابل رہتے ہیں۔سب سے حیران کن پیش رفت ہیومنائیڈ روبوٹکس میں ہے۔ کمپنیاں جیسے ایگولاب ڈاٹ اے آئی، جس کا ہندوستانی دفتر بنگلور میں ہے فیکٹری کارکنوں کو ہلکے کیمرے پہن کر روزمرہ کے کام ریکارڈ کرنے کے لیے رکھتی ہیں۔ اس ’’ایگوسینٹرک‘‘ویڈیو ڈیٹا سے روبوٹس ان حرکات کی نقل کرنا سیکھتے ہیں۔ عملاً، کارکنوں کو تھوڑی اجرت دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے کاموں کی ریکارڈنگ کریں ،جنہیں مستقبل میں یہی اے آئی اور روبوٹکس خود کر سکتے ہیں۔بعد ازاں ان میں سے بیشتر کارکنوں کو آزاد ٹھیکیدار کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے، نہ کہ ملازم جس کی وجہ سے وہ کم از کم اجرت، تنخواہ دار چھٹی، یا معاوضہ جیسے تحفظات سے باہر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: متھرا کی کرشن جنم بھومی مندر سے بھی اربوں روپے کا چندہ چوری
واضح رہے کہ ہندوستان کے مزدور قوانین، بشمول اجرت ضابطہ، ڈیجیٹل کام کے لیے وضع نہیں کیے گئے اور ان کو ریگولیٹ کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ کم اجرت کے علاوہ، کارکن شدید نگرانی سے بھی گزرتے ہیں ۔ ہر کلک، کی اسٹروک اور جمع کرائی گئی چیز کی ٹریکنگ اور ایک غلطی پر پلیٹ فارم سے خاموشی سے ہٹائے جانے کا مستقل خوف، بغیر کسی مینیجر کے۔ سلیکون ویلی کی اے آئی کمپنیاں کھربوں ڈالر کی مالیت کی ہیں، جن کی بنیاد بڑی حد تک ہندوستان جیسے مقامات پر ہونے والی معمولی اور کم اجرت والی محنت پر ہے۔ جبکہ ہندوستان سربراہی اجلاس، میگا ڈیٹا سینٹر معاہدے، اورکام کے اہداف کے ذریعے خود کو عالمی اے آئی معیشت کے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے، اس کہانی کا یہ دوسرا رخ شاید ہی اتنی توجہ پاتا، جہاں لاکھوں ہندوستانی جو روزانہ غیر ملکی اے آئی نظاموں کو زیادہ ذہین، تیز اور قابل بنانے کیلئے،ساتھ ہی دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں اسی کام کی کم اجرت پرکام کر رہے ہیں۔