Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا کی کرشن جنم بھومی مندر سے بھی اربوں روپے کا چندہ چوری

Updated: June 18, 2026, 10:48 AM IST | Hmidullah Siddiqui | Lucknow

نقدی کے ساتھ زیورات بھی غائب، وزیراعلیٰ کو شکایتی مکتوب، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ، عدالتی چارہ جوئی کی بھی دھمکی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایودھیا میں رام مندر کے عطیات سے متعلق تنازعہ کی گونج ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ متھرا کی شری کرشن جنم بھومی بھی سنگین مالیاتی تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ شری کرشن جنم بھومی مکتی آندولن کے سربراہ پنڈت دنیش پھلاہاری نے مندر کے توشہ خانے سے اربوں روپے مالیت کے عطیات، سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کے غائب ہونے کا الزام لگایاہے۔انہوں نے  وزیر اعلیٰ  یوگی کو شکایتی مکتوب ارسال کیا ہے اور سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اپوزیشن پر جارحانہ حملہ امیت شاہ کی سبکی کا انتقام ہے‘‘

پنڈت دنیش نے خبردار  بھی کیا ہے کہ اگر تحقیقات اطمینان بخش نہ ہوئیں تو وہ انصاف کے لئےہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں  نے دعویٰ کیا ہے کہ جب کئی دہائیوں بعد مندر کے توشہ خانے کو کھولا گیا تو وہاں موجود متعدد صندوق خالی تھے۔ ان کے مطابق ماضی میں راجا مہاراجاؤں اور ملک و بیرون ملک کے عقیدتمندوں   کےعطیہ کردہ قیمتی زیورات،  ہیرے جواہرات اور دیگر نذرانوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مندر سے متعلق بعض اہم جائیدادوں کے دستاویزات بھی غائب پائی گئی ہیں۔پھلاہاری مہاراج نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کو خط لکھ کر جانچ کی مانگ کرتے ہوئے کہاہے کہ انتہائی عقیدت کے ساتھ پیش کئے گئے عطیات کے تحفظ میں سنگین کوتاہی برتی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مندر کی چندہ پیٹیوں اور عطیات کے صندوق کھولنے کے دوران بعض مواقع پر سی سی ٹی وی نگرانی مؤثر نہیں رہتی، جس کے باعث مالی بے ضابطگیوں کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔پھلاہاری مہاراج نے مندر انتظامیہ سے وابستہ بعض افراد اور ملازمین کے اثاثوں کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کئی افراد نے حالیہ برسوں میں بڑی جائیدادیں حاصل کی ہیں جن کی جانچ ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK