• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر شعبے میں ۲۰۰؍ ارب ڈالر تک سرمایہ کاری متوقع: پیوش گوئل

Updated: September 02, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر شعبے میں سرمایہ کاری تقریباً ۲۰۰؍ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ایکو سسٹم سے پیدا ہونے والے بڑے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔

Piyush Goyal.Photo:INN
پیوش گوئل۔ تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر تجارت و صنعت  پیوش گوئل  نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ ہندوستان  کے ڈیٹا سینٹر شعبے میں سرمایہ کاری تقریباً ۲۰۰؍ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ایکو سسٹم سے پیدا ہونے والے بڑے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔
پیوش گوئل نے نئی دہلی میں  ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس (EoDB) فار اسکیلنگ انڈیا ڈیٹا سینٹر ایکو سسٹم‘‘  کے موضوع پر منعقدہ سی ای او راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے ہندوستان دنیا کی بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ مرکزی وزیر نے عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال اور معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود ہندوستان کی ترقی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان  کی اقتصادی شرح نمو   ۸ء۷؍ فیصد  رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سوَرا بھاسکر کا وضاحتی بیان: ’’میں نے رانی پدماوتی کو کبھی بزدل نہیں کہا‘‘

گوئل نے کہا کہ ڈیٹا سینٹر اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے ملک کے بڑھتے ہوئے مینوفیکچرنگ بیس سے بھی معیشت کو آنے والے برسوں میں فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ شعبے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو مزید رفتار دینے میں اہم کردار ادا کریں گے اور۲۰۴۷ء تک ۳۰؍ ٹریلین ڈالر کی معیشت  بننے کے ہدف کے حصول میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔
 پیوش گوئل نے کہا کہ صنعت کے مختلف فریقوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے۔ مرکز کے مختلف محکموں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان گفتگو کے نتیجے میں کئی مسائل کو پہلے ہی حل کرنے میں مدد ملی ہے۔ یہ سی ای او راؤنڈ ٹیبل  ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر شعبے کی تیز رفتار اور پائیدار توسیع کے لیے ضروری ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں  ایز آف ڈوئنگ بزنس  اور ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے تنصیب پر خاص توجہ دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی  میں ہندوستان کے ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی صلاحیت کے استعمال میں  ہائپر اسکیلرز  کا حصہ ۸۰؍ فیصد سے زیادہ رہا۔ہائپر اسکیلرز بڑی ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ کمپنیوں کو کہا جاتا ہے جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر استعمال کرتی ہیں۔ ان کی جانب سے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور صلاحیت کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک تیزی سے اے آئی اور ڈجیٹل انفراسٹرکچر کے عالمی مرکز  کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسالنکا وہائٹ بال ٹیم کا نائب کپتان مقرر، انگلینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ سیریز میں واپسی

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈجیٹل خدمات اور ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث آنے والے برسوں میں ڈیٹا سینٹرز کی مانگ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ایسے میں بجلی، زمین، کنیکٹیویٹی اور تیز رفتار منظوریوں سے متعلق بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانا ہندوستان کے ڈجیٹل ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ حکومت کی جانب سے  ۲۰۰؍ ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کا اندازہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیٹا سینٹر صنعت مستقبل میں بھارت کی معیشت، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع کے لیے ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK