ایس بی آئی ریسر چ کی رپورٹ میںدعویٰ،اگر الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے تو آئندہ برس میں خام تیل کی درآمدات پر ہونے والا خرچ مزید کم ہو سکتا ہے ۔
خام تیل کی درآمدات میں کمی آ نے سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ماحولیات کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا- تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ہندوستانی معیشت مضبوط رہی ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک پہلے کے مقابلے میں تیل پر کم انحصار کر رہا ہے۔
ایس بی آئی ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں تیل کی کھپت اور خام تیل کی درآمدات کا معیشت پر اثر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے تو آئندہ برس میں خام تیل کی درآمدات پر ہونے والا خرچ مزید کم ہو سکتا ہے۔
ملک کی تیل پر انحصار میں مسلسل کمی
ایس بی آئی ریسرچ کے مطابق مالی سال۲۰۱۴ءمیں ملک کی تیل کی کھپت جی ڈی پی کا ۱ء۴؍ تھی جو مالی سال۲۰۲۶ء میں کم ہو کر صرف۰ء۷؍ فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی اب پہلے کے مقابلے میں اتنی ہی معاشی سرگرمی کے لئے بہت کم تیل درکار ہے۔ اسی طرح خام تیل کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ مالی سال۲۰۱۴ءکی دوسری سہ ماہی میں خام تیل کی درآمدات جی ڈی پی کے۸ء۶؍فیصد کے برابر تھیں جو مالی۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں کم ہو کر۳ء۱؍ فیصد رہ گئی ہیں۔
تیل کی کھپت کیوں کم ہو رہی ہے؟
رپورٹ کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہےکہ دیہی علاقوں میں ڈیزل پمپوں کی جگہ شمسی توانائی (سولر) سے چلنے والے پمپ نصب کئے جا رہے ہیں۔اسی طرح شہروں میں میٹرو ریل نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہےجبکہ صنعتوں میں شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اپریل اور مئی میں تیل کی طلب میں کمی
رپورٹ کے مطابق اپریل ۲۰۲۶ء میں تیل کی کھپت گزشتہ سال کے مقابلے میں۳ء۸؍ فیصد اور مئی میں۶ء۵؍فیصد کم رہی۔ایس بی آئی ریسرچ کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ معیشت کمزور ہو رہی ہے، کیونکہ دوسری جانب مسافر گاڑیوں، دو پہیہ گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت، برآمدات، مال برداری اور بینکوں کے قرضوں جیسے معاشی اشاریے اب بھی مضبوط ہیں۔
ای وی بڑھیں گی تو تیل پرانحصار مزید کم ہوگا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اس وقت دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک تھری وہیلر مارکیٹ بن چکا ہے جبکہ الیکٹرک بسوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن الیکٹرک کاروں اور الیکٹرک ٹرکوں کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ کےمطابق حکومت کی ’ پی ایم ای ڈرائیو اسکیم‘ کے تحت الیکٹرک ٹرک خریدنے پر۹ء۶؍لاکھ روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے جس کے ذریعے تقریباً۵؍ ہزار۶۰۰؍الیکٹرک ٹرکوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
۲۰۳۰ء تک ایک لاکھ کروڑ روپے سالانہ کی بچت ممکن
ایس بی آئی ریسرچ کے اندازے کے مطابق اگر۲۰۳۰ء تک ملک میں نئی رجسٹر ہونے والی گاڑیوں میں ای وی کا حصہ۲۰؍ فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو ہندوستان ہر سال تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کے خام تیل کی درآمدی اخراجات بچا سکتا ہے۔فی الحال۲۰۲۶ء میں ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ ۸؍ فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔
رپورٹ کی سفارشات
ایس بی آئی ریسرچ کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو تیزی سے فروغ دینے کے لئے۱۰؍ سے۱۵؍ سال پر مشتمل واضح اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ خاص طورپر چارجنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ بیٹری سازی کی مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری ادارے زیادہ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں خریدیں۔رپورٹ کے مطابق اس سے خام تیل کی درآمدات میں کمی آئے گی، زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ماحولیات کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا۔