Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹوٹے گی نہیں ’’ٹی وی کے‘‘

Updated: July 03, 2026, 12:57 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

تمل ناڈو میں، وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی مقبولیت دیکھ کر این ٹی آر (نند مری ترکا راما راؤ) کا دور یاد آتا ہے جب فلموں سے شہرت اور مقبولیت پانے والے ایک فنکار کو آندھرا کے عوام نے اس قدر نوازا تھا کہ وہ چار مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے۔

Vijay.Photo:INN
وجے۔ تصویر:آئی این این
تمل ناڈو میں، وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی مقبولیت دیکھ کر این ٹی آر (نند مری ترکا راما راؤ) کا دور یاد آتا ہے جب فلموں سے شہرت اور مقبولیت پانے والے ایک فنکار کو آندھرا کے عوام نے اس قدر نوازا تھا کہ وہ چار مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے۔ ہرچند کہ اُن کا دورِ اقتدار طویل نہیں بلکہ صرف ۷؍ سال پر مشتمل تھا مگر اُسی دور میں یہ طے پا چکا تھا کہ فلمی مقبولیت کو سیاسی مقبولیت میں تبدیل کرنے کی کوشش شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے۔ تھلاپتی جوزف وجے کا جلوہ زیادہ ہے یا ایک زمانے میں این ٹی راما راؤ کا جلوہ زیادہ تھا یہ کہنا مشکل ہے مگر وجے کا جلوہ دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ این ٹی آر کا جلوہ کیسا رہا ہوگا۔ فلم اداکاروں کو نوازنے کا جنوبی ہند کے عوام کا رجحان وقت کے ساتھ کم نہیں ہوا۔ وجے جس ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں اُسی ریاست کی ایک اور مثال جے للتا کی ہے جو فلم اداکارہ تھیں۔ کم و بیش ۱۴۰؍ فلمو ںمیں کام کرنے کے بعد جب وہ سیاست میں آئیں تو یہاں بھی وہ فلموں کی طرح ہٹ رہیں۔ یہ مثال بھی سمجھاتی ہے کہ جنوبی ہند کے عوام فنکاروں کو نوازنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ جے للتا ۱۹۹۱ء تا ۲۰۱۶ء ، ۱۴؍ سال وزیر اعلیٰ رہیں۔ جنوب کے اور بھی اداکار ہیں جنہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور کامیاب ہوئے مگر جو کامیابی جوزف وجے کو ملی وہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھی، اسی لئے حاسدوں، بدخواہوں اور خوفزدہ عناصر کیلئے اسے ہضم کرنا اب بھی مشکل ہے۔ وجے کو وزیر اعلیٰ کا حلف لئے ابھی دو ماہ بھی نہیں گزرے ہیں کہ اُن کے خلاف سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔
 
 
اطلاعات ہیں کہ وجے کی پارٹی ’’ٹی وی کے‘‘ کے اراکین اسمبلی کو منحرف ہوجانے کیلئے لالچ دیا گیا۔ لالچ دینے یا خوف دلانے ہی کے الزامات اُن لوگوں پر بھی ہیں جنہوں نے مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ایم ایل اے اور ایم پی ہتھیانے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب ہوئے مگر تمل ناڈو یا کیرالا کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مہاراشٹر اور بنگال نہیں ہیں۔ تمل ناڈو کی پولیس اتنی خبردار اور متحرک تھی کہ اس نے اس سازش کا پتہ لگا لیا اور نہ صرف تفتیش شروع کردی بلکہ اب تک تین افراد کو گرفتار بھی کرچکی ہے۔ کوئی رکن اسمبلی اس سازش کا حصہ بنا تو وہ اپنا ہی نقصان کریگا کیونکہ عوام، جو غیر معمولی طور پر وجے کے ساتھ ہیں، ایسے عناصر کو بخشیں گے نہیں۔وجے نے ۱۰؍ مئی ۲۰۲۶ء کو حلف لیا تھا۔ کسی آئینی عہدہ پر فائز ہونے کا اُن کا یہ پہلا موقع ہے اس کے باوجود حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کا اُن کا اب تک کا انداز بتا رہا ہے کہ وہ مروجہ سیاسی طریقوں سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے اُنہوں نے دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو رجھانے کی کوشش نہیں کی جو موجودہ دور کی سیاست کا طرۂ امتیاز ہے۔ دیگر پارٹیوں بالخصوص آل انڈیا انا ڈی ایم کے سے وابستہ اراکین خود اُن کے خیمے میں پناہ لے رہے ہیں۔ کل کے مملا پورم کے جلسے میں انا ڈی ایم کے حکومت کے وزیر صحت سی وجے بھاسکر اور انہی کے ہم نام ٹرانسپورٹ منسٹر ’’ٹی وی کے‘‘ میں شامل ہوئے۔ مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں پارٹی بدلنے کے پیچھے مبینہ طور پر لالچ اور خوف ہے، تمل ناڈو میں نہ لالچ ہے نہ خوف بلکہ شاید یہ احساس ہے کہ ٹی وی کے سے وابستہ رہنے میں فائدہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK