Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈیگو وینچرز کی ایوی ایشن کے شعبے میں اے آئی کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری

Updated: August 28, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi

معروف ایئر لائن کمپنی انڈیگو کے کارپوریٹ وینچر کیپٹل برانچ انڈیگو وینچرز نے ایوی ایشن بزنس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو فروغ دینے کے لیے جمعہ کے روز اے آئی کمپنی سَروم میں سرمایہ کاری کی۔

Indigo Airline.Photo:INN
انڈیگوایئرلائن۔ تصویر:آئی این این

معروف ایئر لائن کمپنی انڈیگو کے کارپوریٹ وینچر کیپٹل برانچ انڈیگو وینچرز  نے ایوی ایشن بزنس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو فروغ دینے کے لیے جمعہ کے روز اے آئی کمپنی سَروم  میں سرمایہ کاری کی۔ کمپنی نے بتایا کہ یہ سرمایہ کاری سَروم  کے سیریز بی فنڈنگ راؤنڈ کے تحت کی گئی ہے۔ یہ قدم انڈیگو اور سَروم کے درمیان پہلے سے موجود شراکت داری کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ دونوں کمپنیاں اے آئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ایئر لائن میں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے، ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور پیچیدہ آپریشنل عمل کو ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری انڈیگو میں اے آئی پر مبنی جدت اور آپریشنل عمدگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک طویل المدتی پلیٹ فارم تیار کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آن لائن نازیبا زبان استعمال کرنے والے شخص نے شویتا تیواری سے معافی مانگی

انڈیگو کے چیف ڈجیٹل اینڈ انفارمیشن آفیسر نتن چوپڑا نے کہا’’آرٹیفیشل انٹیلی جنس تیزی سے ایوی ایشن انڈسٹری کی بنیادی صلاحیت بنتی جا رہی ہے۔ یہ گاہکوں کے تجربے، افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت اور آپریشنل فیصلوں کو نیا روپ دے رہی ہے۔ سَروم کے ساتھ ہماری شراکت داری سے انڈیگو کو ملک میں تیار کردہ اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید ترین اے آئی صلاحیتوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کو اپنی آپریشنل مہارت اور وسیع صلاحیت کے ساتھ جوڑ کر ہم جدت کو تیز کر سکتے ہیں اور اپنے صارفین، ملازمین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے بہترین قدر پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:عمران خان کے ساتھ عزت، وقار اور انسانیت سلوک کیا جانا چاہیے: پیٹ کمنز

سَروم کے شریک بانی پرتیوش کمار نے کہا’’ایوی ایشن کا شعبہ انٹرپرائز اے آئی کے لیے ایک انتہائی اہم اور اثر انگیز شعبہ ہے۔ اس میں لاکھوں صارفین کے تعاملات کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور حساس وقت کے آپریشنل عمل شامل ہوتے ہیں۔ انڈیگو وہ ضروری علاقائی مہارت اور وسیع پیمانہ لاتی ہے، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اے آئی حقیقی قدر کہاں پیدا کر سکتا ہے۔ ہم مل کر کے ایسے سسٹمز تیار کر سکتے ہیں، جو حقیقی ماحول میں کارآمد ہوں اور ملک میں انٹرپرائز اے آئی کے لیے ایک مضبوط ماڈل قائم کریں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK