Inquilab Logo Happiest Places to Work

پزشکیان کا ٹرمپ سے ہلچل پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ، کہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوسکتے ہیں

Updated: August 29, 2026, 8:01 PM IST | Tehran/Washington

پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی حملے کا سختی سے جواب دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی طاقت ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایرانی صدر نے اسرائیل پر مسلم ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا اور ایسی کوششوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وسیع تر اسلامی اتحاد کا مطالبہ کیا۔

Donald Trump and Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر اپیل کی کہ وہ ہلچل اور انتشار پیدا کرنے والی باتوں سے گریز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان یادداشت مفاہمت (MoU) کے نفاذ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ ”اگر ہم بات چیت کے ذریعے اور یادداشت مفاہمت کی بنیاد پر آگے بڑھیں، تو ہم مسائل حل کر لیں گے اور اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ”ٹرمپ انتشار پیدا نہ کریں اور اسرائیل بدامنی اور جارحیت کا سبب نہ بنے۔“

پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی حملے کا سختی سے جواب دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی طاقت ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایرانی صدر نے اسرائیل پر مسلم ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا اور ایسی کوششوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وسیع تر اسلامی اتحاد کا مطالبہ کیا۔ اندرونی معاملات پر انہوں نے آنے والی سردیوں کے دوران صنعتی پیداوار کو برقرار رکھنے کو ”ریڈ لائن“ قرار دیا اور وعدہ کیا کہ گیس، بجلی یا پانی پر کوئی بھی پابندی عوام کے بجائے سب سے پہلے سرکاری دفاتر پر لگائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ذہنی مریض قرار دیا

ایران سفارت کاری کیلئے اب بھی تیار

جنگ کے چھ ماہ گزرنے کے بعد، ایران نے اشارہ دیا کہ وہ سفارت کاری کیلئے اب بھی تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب واشنگٹن اپنی دباؤ کی مہم ترک کر دے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ”سفارت کاری کو دوبارہ پٹڑی پر لانا ناممکن نہیں ہے۔ اس کا انحصار امریکہ کی جانب سے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنے پر ہے: دباؤ کام نہیں کرتا۔“ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ”اعتماد بحال کرے، احترام سے بات کرے، ہمارے حقوق کو تسلیم کرے اور وعدوں کو نبھائے۔“ عمان اور پاکستان کے ساتھ ایک ہفتے کے مذاکرات کے بعد، عراقچی نے جمعرات کو تہران میں اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی تاکہ آبنائے ہرمز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جسے ایران نے جنگ کے آغاز میں بند کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مشی گن کے امیدوار عبد السید نے نام کا بار بار غلط تلفظ ادا کرنے پر ٹرمپ کا مذاق اڑایا

امریکی معاشی پابندیوں سے ایرانی معیشت کو نقصان 

ایک نمایاں تبدیلی کے تحت، پزشکیان نے جمعہ کو سرکاری ٹی وی کے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ امریکی پابندیاں ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنے موقف پر اصرار کرتے آئے تھے کہ ان کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا؛ ان لوگوں سے مجھے واقعی سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔“ انہوں نے مزید کہا، ”ہم جنگ کی حالت میں ہیں اور ہمیں ان جنگی حالات کو تسلیم کرنا چاہئے۔“ ان کے یہ تبصرے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے ”معاشی گلا گھونٹنے“ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کرنے اور امریکی مہم میں شامل نہ ہونے والے ممالک کو نتائج کی دھمکی دینے کے چند دنوں بعد سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ

ایرانی کابینہ نے سنیچر کے روز امریکہ کی عائد کردہ ”غیر منصفانہ پابندیوں“ اور ”سازشوں“ کے خلاف مزاحمت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سفارت کاری کی رہنمائی ”عزت، حکمت اور مصلحت“ کے اصولوں پر ہوگی جبکہ وہ ”امریکی-صیہونی تکبر“ کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK