• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-یو اے ای-فرانس نے سہ فریقی تعاون کا جائزہ لیا، اہم امور پرگفتگو

Updated: September 24, 2026, 1:41 PM IST | Agency | New York

اے آئی، خلاءاور توانائی پر توجہ،صحت سائنس، توانائی اور ثقافت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال۔

External Affairs Minister S. Jaishankar and others during the trilateral meeting. Photo: PTI
سہ فریقی اجلاس کےدوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ہندوستان، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور فرانس نے سہ فریقی تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خلائی شعبے، صحت سائنس، توانائی اور ثقافت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ بات۸۱؍ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید ا ٓل نہیان اور فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے نیویارک میں ہند-یو اے ای-فرانس سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھئے: روس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ

تینوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے متفقہ شعبوںمیں سہ فریقی تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا جن میں خلاء، مصنوعی ذہانت اور ثقافت و ورثہ شامل ہیں۔اس دوران مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزرائے خارجہ نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے اور ہندوستان، فرانس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ تینوں ممالک نے ٹھوس اقدامات کے ذریعے تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے باقاعدگی سے ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اجلاس میں مصنوعی ذہانت، خلاء، صحت سائنس، توانائی اور ثقافت میں تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK