• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-امریکہ معاہدہ پر راہل کے ۵؍ سوال، امیت شاہ برہم

Updated: February 16, 2026, 10:30 AM IST | New Delhi

کانگریس لیڈر نے تجارتی معاہدہ کوکسانوں  کے ساتھ دھوکہ قراردیا، طویل مدتی نقصانات سے آگاہ کیا، دلائل بھی دیئے مگر وزیر داخلہ نے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا، بحث کا چیلنج کیا۔

Rahul Gandhi`s attacks have upset the BJP. Amit Shah challenged him to a debate, but not on the Indo-US agreement, but on who harmed the interests of farmers and who worked for their welfare. Photo: INN
راہل گاندھی کے حملوں  نے بی جےپی کو پریشان کردیاہے۔ ا میت شاہ نے انہیں  بحث کا چیلنج تو کیا مگر ہند-امریکہ معاہدہ پر نہیں بلکہ اس پر کہ کس نے کسانوں   کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور کس نے ان کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا۔ تصویر: آئی این این

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو براہ راست وزیراعظم نریندر مودی سےمذکورہ معاہدہ کے حوالے سے ۵؍ تلخ سوال پوچھے اور تشویش کا اظہار کیا کہ’’ہم ہندوستانی کاشتکاروں کے ساتھ دھوکہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘ دوسری طرف راہل گاندھی کے پے در پے حملوں  سے حکمراں  محاذ کی جھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس پر ’’ہمیشہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ ‘‘کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئے راہل گاندھی کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر کھلی بحث کا چیلنج کیا۔ ا نہوں  نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ میں ہندوستانی کسانوں  کے مفادات کا تحفظ کیاگیا ہے۔ 
معاہدے پرراہل گاندھی کے سوال 
اپوزیشن لیڈر نے پہلا سوال امریکہ سے خشک اناج کی درآمد پر کیا اور کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہےکہ ہندوستانی مویشی امریکی مکئی سے بنے چارے پر منحصر ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں دودھ کی مصنوعات کی فراہمی بھی امریکی زرعی صنعت پر منحصر ہو سکتی ہے۔ دوسرا سوال انہوں نے سویا تیل کی درآمد کی اجازت دینے کے تعلق سے کیا۔ راہل گاندھی نے پوچھا کہ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجستھان سمیت ملک بھر کے سویا کسانوں  کا کیا ہوگا اور وہ اس سے کس طرح نمٹ پائیں  گے؟ کانگریس لیڈر نے تیسرا سوال معاہدہ میں  موجود اصطلاح ’’ اضافی اشیاء‘‘ کے تعلق سے کیا۔ انہوں  نے پوچھا کہ ’’اضافی اشیاء‘‘میں  کیا کیا شامل ہیں اور کیا یہ وقت کے ساتھ دالوں  اور دیگر فصلوں  کیلئے بھی ہندوستانی بازاروں  کو کھولنے کے دباؤ کا اشاریہ ہے؟ اپوزیشن لیڈر کا چوتھا سوال ’’غیر تجارتی رکاوٹیں  دور کرنے ‘‘سے متعلق ہے۔ انہوں  نے پوچھا ہے کہ کیا اسےجینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) فصلوں کے بارے میں ہندوستان کا مؤقف نرم کرنے، اپنے کسانوں سے فصل کی خریداری کم کرنے یا ایم ایس پی میں   تخفیف کا دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا جائےگا؟ کانگریس کے سابق صدر کا پانچواں  سوال ہند امریکہ معاہدہ میں  برتی گئی نرمی کی بنا پر ہندستان کو پہنچنےوالے طویل مدتی نقصان سے متعلق ہے۔ انہوں   نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ’’ایک بار دروازہ کھل گیا ہے تو ہر سال اسے اور زیادہ کھلنے سے ہم کیسے روکیں گے؟‘‘ راہل گاندھی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہر سال سودے میں نئی نئی امریکی فصلیں  میز پر رکھ دی جائیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بسواشرما کیخلاف پٹیشن پرکل سپریم کورٹ میں شنوائی

مسئلہ آج کا نہیں  مستقبل کا بھی ہے: راہل 
راہل گاندھی نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدہ میں  جو نرمی برتی جارہی ہے اور خود سپردگی کی جارہی ہے اس سے مسئلہ صرف آج کا نہیں  ہے بلکہ ہندوستان کی زرعی خود انحصاری اور کسانوں کے مستقبل سے وابستہ ہے، جس پر حکومت کو واضح طور پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ’’کیا ہم کسی اور ملک کو ہندوستان کے زرعی کاروبار پر دبدبہ قائم رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟
امیت شاہ برہم، دروغ گوئی کا الزام لگایا
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جو اتوار کو گجرات میں تھے، نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس ہمیشہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرتی رہی ہے۔ انہوں  نے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے۲۷؍ کروڑ افراد کوخط افلاس سے باہر نکالا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’ جب پارلیمنٹ میں کانگریس کے شہزادے راہل گاندھی کسانوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتےہیں تو مجھے تو ہنسی آتی ہے۔ میں آج ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کسانوں کا کتنا اناج خریدا تھا۔ ہم نے آپ سے ۱۵؍گنا زیادہ اناج ایم ایس پی پر کسانوں سے خریدا ہے۔ آپ کے وقت میں کسانوں کا بجٹ صرف۲۶؍ ہزار کروڑ روپے تھا، جسے بڑھا کر ایک لاکھ۲۹؍ ہزار کروڑ روپے مودی جی نے کیا ہے۔ ‘‘
راہل گاندھی کو کھلی بحث کا چیلنج
اس کے ساتھ ہی امیت شاہ نے راہل گاندھی کوکسانوں کےمفادات کے تحفظ کے معاملےمیں کھلی بحث کا چیلنج کیا۔ وزیر داخلہ نےکہا کہ ’’راہل گاندھی جی، آپ پلیٹ فارم طے کریں کہ کہاں   بحث کرنی ہے، بی جےپی یو ا مورچہ کا کوئی لیڈر بھی آکر آپ سے بحث کرلےگاکہ کس نے کسانوں   کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور کس نے ان کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ ’’جب کانگریس کی حکومت تھی تب صرف۵۰۰؍ گاؤں میں کنیکٹیوٹی پہنچی تھی۔ آج ایک لاکھ۷؍ہزار گاؤں میں کنیکٹیوٹی پہنچ گئی ہے۔ انہوں  نے ۸۰؍کروڑ افرادکو فی ماہ فی کس ۵؍کلو مفت اناج دینے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہر غریب شہری کو اناج حاصل کرنے کے حق کی حفاظت ہوگی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK