• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان کیلئے دھاراوی میں شاندار عارضی مسجد تعمیر

Updated: February 16, 2026, 11:39 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

عید الفطر کی نماز تک مسجد قائم رکھی جائےگی۔ ہر روز یہاں ۱۵۰؍ سے زائد افراد افطار کرتے ہیں لیکن کبھی افطار خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

The interior of a makeshift mosque built in Dharavi. Photo: INN
دھاراوی میں تعمیر کی گئی عارضی مسجد کا اندرونی حصہ۔ تصویر: آئی این این

باندرہ سے دھاراوی میں مہاڈا کے ذریعہ تقریباً ۲۵؍ برس قبل منتقل کئے گئے مسلمان ہر سال رمضان مہینے کیلئے اپنے کمپائونڈ میں عارضی مسجد بناتے ہیں۔ اگرچہ یہاں ہم وطنوں کہ تعداد زیادہ ہے لیکن سب مل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہوار میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس سال بھی یہ مسجد بن کر تقریباً مکمل ہوگئی ہے اور یہ اتنی شاندار ہے کہ بظاہر پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ عارضی ہے۔ دھاراوی میں برما اسٹار بیکری کے قریب واقع ’ستیم شیوم سندرم سچینم کالونی‘ میں یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے کیونکہ اس کالونی میں مسجد نہیں ہے اور رمضان میں پڑوس میں واقع مسجد میں پہنچنے میں کچھ وقت صرف ہوجاتا ہے۔ اس میں رمضان کے پورے مہینے عید تک روزانہ پانچوں وقت کی نمازیں ہوتی ہیں اور تراویح کی ۲؍ جماعتیں ہوتی ہیں۔ ایک جماعت نماز عشاء کے معمول کے وقت پر پڑھی جاتی ہے جبکہ دوسری ۶؍ دنوں کی تراویح ہوتی ہے جو شب ۱۱؍ بجے شروع ہوتی ہے اور رات کو ڈیڑھ سے ۲؍ بجے تک ختم ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ مسجد اتنی بڑی ہے کہ اس میں تقریباً ۱۸۰۰؍ افراد بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں اس کے باوجود تراویح کی دوسری جماعت میں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ جگہ ملنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس میں نوجوانوں اور کاروبار کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جنہیں دیر سے فرصت ملتی ہے۔ 
یہاں ہر روز تقریباً ۱۵۰؍ سے زائد افراد افطار کرتے ہیں اور اخیر کے دنوں میں افطار پر معمولی خرچ کے علاوہ پورے مہینے افطار کی خریداری پر کوئی خرچ نہیں ہوتا کیونکہ یہاں اطراف کے گھر کے لوگ، پھل اور بھیجا وغیرہ فروخت کرنے والے مسجد میں افطار کا سامان بھیج دیتے ہیں۔ البتہ آخر کے دنوں میں جب گھر کی خواتین خریداری وغیرہ میں مصروف ہوتی ہیں اور مسجد میں افطار نہیں بھیج پاتیں تب کسی کسی دن ایسا ہوتا ہے کہ کچھ افطار خرید کر منگوانا پڑتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اگر ہیلمٹ نہیں تو ٹول ناکہ عبور کرنے کی اجازت نہیں ‘‘

اس ایک مہینے میں ہونے والے چندہ سے ہی اس عارضی مسجد کی تعمیر اور مہینے بھر کے اخراجات کے علاوہ یہاں پورے سال ’مدرسہ تعلیم القرآن کمیٹی‘ نام سے مکتب چلایا جاتا ہے جس میں طلبہ کو مفت ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا ہے۔ اس عارضی مسجد کیلئے ایک مہینے کیلئے باقاعدہ بیسٹ سے بجلی حاصل کی جاتی ہے اور میٹر کے حساب سے اس کا بل ادا کیاجاتا ہے۔ منتظمین کے مطابق مسجد کے اخراجات ہر سال بڑھ رہے ہیں اس لئے چندہ پر انحصار بھی بڑھتا جارہا ہے۔ 
باندرہ میں بھارت نگر سے مہاڈا کے ذریعہ ۲۰۰۱ء میں دھاراوی میں منتقل کئے گئے ۵۶۰؍ خاندانوں میں احمد مبین شیخ (۶۴) بھی شامل ہیں جو اس مسجد کی تعمیر میں دیگر مقامی افراد کے ساتھ پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’جس سال ہمیں یہاں منتقل کیا گیا اسی سال کالونی کے ایک طرف واقع باغیچے میں ساتھ آنے والے برادران وطن نے گنپتی رکھ کر گنیش اتسو منایا تھا۔ اس کالونی میں مزید ایک کھلی جگہ واقع ہے جہاں عام طور پر بچے کھیلتے ہیں اور کبھی سالگرہ یا منگنی جیسے چھوٹے موٹے پروگرام رکھے جاتے ہیں اس جگہ پر رمضان میں تراویح اور دیگر نمازوں کیلئے اسی سال بانس وغیرہ باندھ کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’یہاں آنے والے ۵۶۰؍ خاندانوں میں سے صرف ۸۰؍ سے ۹۰؍ خاندان ہی مسلمانوں کے ہیں لیکن سب مل کر رہتے ہیں۔ جب ہم وطنوں کا تہوار ہوتا ہے تو ہم بھی ان کے یہاں چلے جاتے ہیں اور ہمارے تہواروں میں وہ لوگ ساتھ دیتے ہیں۔ ‘‘
مسجد کی دیکھ ریکھ میں پیش پیش رہنے والے دیگر شخص دستگیرشیخ نے کہا کہ ’’ابھی مسجد کا کام ادھورا ہے اس لئے یہاں رہنے والے برادران وطن اندر تک آکر کوئی کام میں ہاتھ بٹا دیتے ہیں لیکن ایک بار مسجد بن کر تیار ہوجائے تو وہ اندر داخل نہیں   ہوتے۔ کبھی کوئی مدد کرنی ہو، مثلاً افطار کیلئے پھل کی بوری وغیرہ مسجد تک پہنچانی ہو تو وہ مسجد کے گیٹ تک لاکر پہنچادیتے ہیں۔ اس طرح یہاں مل جل کر کام ہوتا ہے۔ ‘‘ مصلیان زیادہ ہونے کی صورت میں اگرچہ یہاں مسجد کے باہر نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے اور ہم وطن اعتراض بھی نہیں کریں گے لیکن باہر نماز پڑھنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر ۲؍ جماعتیں بنا لی جاتی ہیں۔ جمعہ کی بھی کبھی ۲؍ تو کبھی ۳؍ جماعتیں ہوتی ہیں، حفاظ تیار رہتے ہیں جیسی ضرورت ہوتی ہے اتنی جماعت بنالی جاتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK