• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

انڈونیشیا: کھانسی کی دواسے ہونیوالی اموات پر کمپنی کے مالک کو سزا

Updated: November 03, 2023, 10:49 AM IST | Agency | Jakarta

۳؍ دیگر اہلکاروں کو بھی ۲؍ سال قید کی سزا سنائی اور ہر مجرم پر ایک ارب انڈونیشیائی روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

When the cough medicine wears off. Photo: INN
جب کھانسی کی دوازہربن گئی۔ تصویر:آئی این این

انڈونیشیا میں کھانسی کی دوا سے ہونیوالی  اموات کے معاملے میں عدالت نے کمپنی کے مالک اور ۳؍ اہلکاروں کو قید کی سزا سنائی ہے ۔ اس دوا کے  سبب ملک کے۲۰۰؍ سے زائد بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ انڈونیشیا کی ایک عدالت نے بدھ کو  کھانسی کی دوابنانے والی کمپنی کے مالک اور اسکے۳؍ دیگر اہلکاروں کو ۲؍ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اتنا ہی نہیں  عدالت نے ہر ایک مجرم پر ایک ارب انڈونیشیائی روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق  اس کمپنی کا نام `’عافی فارما‘ ہے جس پر کھانسی کی ایسی دوا  تیار کرنے کا الزام تھا، جس میں زہریلے مادے کی  مقدار زیادہ  موجود تھی۔ تاہم کمپنی کے وکیل کا کہنا ہے کہا کہ سیرپ کی تیاری میں غفلت نہیں برتی گئی اور فرم اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پراسیکوشن(استغاثہ) نے عافی فارما کے چیف ایگزیکٹیو پراسیتیا ہراہاپ کیلئے ۷؍ سے ۹؍سال  اور دوسرے ملزمین کو ۷؍ برس قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اکتوبر ۲۰۲۱ء سے فروری۲۰۲۲ء کے درمیان کمپنی کو ’پروپیلین گلائیکول‘ کی دو کھیپ موصول ہوئیں، جو کھانسی کا شربت بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان دونوں کھیپ میں۹۶؍ فیصد سے۹۹؍ فیصد تک ایتھیلین گلائیکول موجود تھا۔ ان دونوں مادوں کو سالوینٹس میں اضافے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پروپیلین گلائیکول غیر زہریلا مادہ ہے اور بڑے پیمانے پر ادویات، کاسمیٹکس اور کھانے میں استعمال ہوتا ہے، تاہم ایتھیلین گلائیکول زہریلا مادہ ہے اور پینٹ اور بریک فلوئڈ میں استعمال ہوتا ہے۔ ایسٹ جاوا میں کیڈیری ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے چاروں ملزمین کو جان بوجھ کر دواسازی کا ایسا سامان تیار کرنے کا قصوروار  پایا، جو حفاظتی معیارات کے مطابق نہیں تھا۔ خیال رہے کہ۲۰۲۲ء میں۲۰۰؍ سے زیادہ انڈونیشیائی بچے، جن میں سے بیشتر کی عمریں ۵؍ سال سے کم تھیں، کی اموات کا تعلق آلودہ کھانسی کے شربت سے بتایا گیا تھا۔ اس آلودہ سیرپ کی وجہ سے بچوں کے گردے شدید طور پر متاثر ہوئے، جس کے سبب ان کی موت ہو گئی ۔ گامبیا  اور ازبکستان میں بھی آلودہ کھانسی کی دوا کے استعمال سے بھی تقریباً ۱۰۰؍ بچے ہلاک ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد ڈبلیو ایچ او نے ہندوستان اور انڈونیشیا میں تیار شدہ کھانسی کے چھ سیرپ کے بارے میں وارننگ جاری کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK