۲؍ ہزار سے زائد افراد کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی، ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کیلئے سونامی کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی جسے بعد میں واپس لے لیاگیا، ا مدادی کارروائیاں جاری۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 11:13 AM IST | Jakarta
۲؍ ہزار سے زائد افراد کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی، ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کیلئے سونامی کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی جسے بعد میں واپس لے لیاگیا، ا مدادی کارروائیاں جاری۔
مشرقی انڈونیشیا میں سنیچر کو آنے والے۷ء۷؍ شدت کے خطرناک زلزلے میں کم از کم۴۷؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ ملک کے شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اہلکار نے اطلاع دی۔ خبر لکھے جانے تک مختلف ذرائع سے ۴۷؍ ہلاکتوں کی اطلاع ملی جب کہ ابتدا میں نیشنل ڈیزاسٹر مٹیگیشن ایجنسی کے سربراہ سہاریانتو نے ایک نیوز کانفرنس میں ۳۸؍ اموات کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دو شدید زخمی ہوئےہیں، ۱۱؍ افرادکو معمولی زخم آئے ہیں اور تقریباً۲؍ ہزار افراد نے خود اپنے بل بوتے پر نقلِ مکانی کی ہے۔ ‘‘مشرقی انڈونیشیا کے جزیرہ فلوریس کے قریب آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارکنان نے اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
شدید زلزلے کے بعد حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی، تاہم بعد میں انڈونیشیا کی موسمیات، موسمیاتی علوم اور جیو فزکس ایجنسی نے بتایا کہ سمندر کی سطح میں کوئی ایسی نمایاں تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی جو ساحلی آبادیوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہو۔ اس کے بعد سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دماغی نکسل‘‘ کی اصطلاح کو اپوزیشن نے وزیراعظم کی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح۵؍ بجکر۵۸؍ منٹ پر انڈونیشیا کے فلوریس خطے میں آیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً۱۰؍کلومیٹر تھی جبکہ مرکز مشرقی نوسا ٹینگارا صوبے کے شہر اینڈے سے تقریباً۶۸؍ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تھا۔ شدید زلزلے کے بعد کئی ہلکے جھٹکے بھی محسوس کئے گئے۔ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے سربراہ سہاریانتو کے مطابق امدادی کارکن اب تک ۴۰؍ سے زائد لاشیں برآمد کرچکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں سیکا، منگرائی اور مشرقی منگرائی کے شدید متاثرہ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق منگرائی کے علاقے ریوک میں لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے سے۱۶؍ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ کم از کم۱۳؍ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیاجن میں ۲؍ افراد کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
امدادی کارروائیوں اور رسد کی فراہمی کے لیے تین ہیلی کاپٹر اور ایک ریسکیو جہاز بھی تعینات کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ان کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق نگی کیو ریجنسی میں تقریباً۲؍ ہزار دیہاتی زلزلے کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہوگئے۔ مشرقی نوسا ٹینگارا پولیس کے سربراہ رودی دارموکو نے بتایا کہ زلزلے سے متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی شہروں اور دیہات میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے، جس کے باعث نقصانات اور جانی نقصان سے متعلق اطلاعات جمع کرنے اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں اینڈے ریجنسی میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی۔