ممبئی-ناسک شاہراہ کے بھیونڈی-تھانےبائی پاس کی خستہ حالی نے ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 12:05 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
ممبئی-ناسک شاہراہ کے بھیونڈی-تھانےبائی پاس کی خستہ حالی نے ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔
ممبئی-ناسک شاہراہ کے بھیونڈی-تھانےبائی پاس کی خستہ حالی نے ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ مسلسل بارش کے بعد شاہراہ پر جگہ جگہ بڑے اور گہرے گڑھے پڑگئے ہیں جبکہ برسوں سے جاری توسیعی کام بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ٹریفک جام میں پھنسنے والے شیوسینا لیڈر اور سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے سڑک کی بدحالی کا ویڈیو ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا جس کے بعد بائی پاس کی خستہ حالی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی۔
بائی پاس کو آٹھ لین میں تبدیل کرنے کا کام ۲۰۱۸ءسے جاری ہے لیکن تعمیراتی کام کی سست رفتاری کے باعث منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ کئی مقامات پر فلائی اوور کا کام ادھورا ہے جبکہ سڑکوں پختہ کرنےکا کام بھی سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ دوسری جانب بارش نے سڑک کی رہی سہی حالت بھی بگاڑ دی ہے اور متعدد مقامات پر خطرناک گڑھے بن گئے ہیں۔
سونالے گاؤں، چاویندرا روڈ، پمپلاس، ہائی وے دیوے، کلیان روڈ، کون گاؤں، انجور پھاٹا سے کَشیلی تک تقریباً ۲۵؍کلومیٹر کا راستہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ مقامی افراد کے مطابق گزشتہ ۱۰؍ دنوں میں گڑھوں کے باعث ۶؍ سے زائد حادثات پیش آچکے ہیں۔ دو روز قبل گڑھے میں موٹر سائیکل پھسلنے سے دو نوجوان شدید زخمی ہوئے جبکہ مختلف حادثات میں دو افراد کی موت کی اطلاعات بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ڈی ایف سی منصوبے کے مٹی بھراؤ کو ترپال اور سیمنٹ کی بوریوں کا سہارا
دو گھنٹے کا سفر ڈھائی گھنٹے میں
گڑھوں اور ٹریفک جام کے باعث بھیونڈی سے تھانے کا تقریباً ۲۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں دو سے ڈھائی گھنٹے تک لگ رہے ہیں۔ ایمبولینس، اسکولی بسوں اور روزانہ ملازمت کے لئے سفر کرنے والے ہزاروں افراد کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔ طویل جام میں گاڑیوں کے پھنسے رہنے سے ایندھن کا خرچ بڑھنے کے ساتھ گاڑیوں کے خراب ہونے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔
تہواروں سے قبل فوری مرمت کا مطالبہ
آئندہ تہواروں کے دوران ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر گڑھوں کی مرمت اور تعمیراتی کام مکمل نہ کئے گئے تو ٹریفک جام کے ساتھ حادثات کا خطرہ بھی مزید بڑھ جائے گا۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بائی پاس کی سڑک کی فوری مرمت اور زیرِ التوا تعمیراتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔