کہا:’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ا ور’آندولن جیوی‘ کی طرح یہ بھی آزادی ٔ اظہار کو دبانے اور سماجی کارکنوں ، ماہرین تعلیم، دانشوروں نیزسیاسی ناقدین کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 10:46 AM IST | New Delhi
کہا:’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ا ور’آندولن جیوی‘ کی طرح یہ بھی آزادی ٔ اظہار کو دبانے اور سماجی کارکنوں ، ماہرین تعلیم، دانشوروں نیزسیاسی ناقدین کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
لال قلعہ سے قوم کے نام خطاب میں ’’دماغی نکسل‘‘ یعنی ’’ماؤ نواز ذہنیت رکھنے والے افراد‘‘ کی نشاندہی کرکے انہیں الگ تھلگ کرنے کی وزیراعظم کی اپیل پر اپوزیشن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حزب اختلاف نے الزام لگایا کہ مودی اختلاف رائے کو نشانہ بنانے اور اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے ایسے القابات کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ’’یک جماعتی نظام اور پھر آمریت‘‘ کی راہ ہموار ہوسکے۔ جنگلوں میں سرگرم نکسلیوں کو ’’ہتھیاری نکسل‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ توخاتمے کے قریب ہے، لیکن اس کے نظریاتی ہمدرد’’دماغی نکسل‘‘ملک میں بدامنی پیدا کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں ۔ مودی نے کہاکہ’’ہمیں ان ذہنی نکسل عناصر کی شناخت کرکے انہیں الگ تھلگ کرنا ہوگا۔ ‘‘
مخالفین کو خاموش کرنے کی کوشش
سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہاکہ ’’وزیر اعظم نے ایک نئی توہین آمیز اصطلاح وضع کی ہے، ’ذہنی نکسل‘۔ یہ اختلاف رکھنے والے دانشوروں ، مصنّفین، اساتذہ اور اسکالرز کو ’اربن نکسل‘ قرار دینے کی ان کی قابل مذمت مہم کی نئی شکل ہے۔ یاد کیجیے کہ انہیں بدنام کرنے کیلئے ’ اینٹی نیشنل ‘، ’پاکستان حامی‘، ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘، ’ملک کے دشمن‘ اور ’جاسوس‘ جیسے الفاظ استعمال کئے جاچکے ہیں ۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ ’’اگر وزیر اعظم کے مطابق ’دماغی نکسل ‘ کو ختم کر دیا جائے گا تو اس کا مطلب اپوزیشن کا خاتمہ ہوگا۔ یہ یک جماعتی نظام اور بالآخر آمریت کی راہ ہموار کرے گا۔ ‘‘ چدمبرم نے مزید کہا کہ نام نہاد ’’دماغی نکسل‘‘ میں سے کچھ لوگ بغیر مقدمے کے ۶؍ سال سے جیلوں میں قید ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: سنبھل میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران اسکول کا چھجہ گرا،ایک بچہ ہلاک
اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے: سی پی آئی
سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے مودی کی ’’دماغی نکسل‘‘ کی اصطلاح کو اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ سی پی آئی کے لیڈر ڈی راجا نے اسے اختلاف رائے دبانے کی کوشش قرار دیا۔ راجا نے کہاکہ ’’وزیر اعظم مودی کو یوم آزادی جیسے اہم قومی موقع پر بھی اختلاف رکھنے والوں کو نشانہ بنانے کا وقت اور موقع مل جاتا ہے، لیکن وہ آسانی سے ان سوالات کو بھول جاتے ہیں جو ہندوستان کے عوام ان سے اور ان کی حکومت سے پوچھ رہے ہیں ۔ ‘‘
لال قلعہ کی فصیل سے جھوٹ نہ بولو: اکھلیش
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے خواتین ریزرویشن کے حوالے سے وزیراعظم کی اپیل پر کہا کہ ’’لال قلعہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے جھوٹ بولا جائے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ قانون۲۰۲۳ء میں ہی منظور ہو چکا ہے اور حکومت کو اسے۲۰۲۷ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں نافذ کرنا چاہیے۔ اکھلیش نےکہا کہ ’’کون نہیں واقف ہے کہ خواتین کا بل منظور ہو چکا ہے؟ ہر شخص جانتا ہے، ہر سیاسی جماعت جانتی ہے۔ ہم کہتے ہیں اسے ۲۰۲۷ء سے نافذ کرو۔ ‘‘
’’خواتین ریزرویشن سے کس نے روکا ہے‘‘
سیاسی جماعتوں سے خواتین ریزرویشن بل کو منظور کرانے کو یقینی بنانے کی مودی کی اپیل پر طنز کرتے ہوئے کانگریس کی ترجمان راگنی نائک نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کو خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے سے کون روک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ۱۲؍سال تک جب مودی کے پاس مضبوط اکثریت تھی، توانہیں خواتین کے ریزرویشن کو حقیقت بنانے سے کس نے روکا تھا؟‘‘ راگنی نے یاد دہانی کرائی کہ ’’۲۰۲۳ء میں ہی خواتین ریزرویشن بل منظور کر لیاگیاتھا مگر ناری شکتی وندن ادھینیم نامی اس بل کوبھی مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا گیا ۔ ‘‘
پیلیٹ گن پر معافی کے بجائے سیاست
ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نے یوم آزادی کی تقریب کے سیاسی استعمال کو شرمناک قراردیا اور کہا کہ ’’ نوجوانوں پر تشدد اور پیلٹ گنوں کے استعمال پر معافی مانگنے کے بجائے مودی اپنا معمول کا بے معنی بیانیہ پیش کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب، اپنا غرور اور گھمنڈ ترک کیجئے ۔ یہ آپ کے کسی کام نہیں آ رہا ہے۔ ‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم مودی کی ایک گھنٹہ سے زیادہ طویل تقریر میں جنتر منتر احتجاج، طلبہ پر لاٹھی چارج اور ملک بھر میں نوجوانوں میں پھیلی بے چینی کے حوالے سے مکمل خاموشی رہی۔