جکارتہ کی طرف سے اپریل تک ایک ہزار فوجیوں کو بھیجا جائے گا، جبکہ جون تک غزہ بھیجنے کیلئے ۸؍ ہزار جوانوں کو تیار کر لیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 1:06 PM IST | Agency | Jakarta
جکارتہ کی طرف سے اپریل تک ایک ہزار فوجیوں کو بھیجا جائے گا، جبکہ جون تک غزہ بھیجنے کیلئے ۸؍ ہزار جوانوں کو تیار کر لیا جائے گا۔
انڈونیشیا نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل تک غزہ بھیجنے کیلئے ایک ہزار فوجیوں کو تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جبکہ جون تک غزہ میں تعیناتی کیلئے مجموعی طور پر ۸؍ ہزارفوجیوں کو تیار کر لیا جائے گا۔ انڈونیشیائی فوج کا مزید کہنا ہے کہ غزہ میں ہماری افواج کی تعیناتی کا ٹائم ٹیبل ریاست کے فیصلے کے تابع ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:وائی آر ایف اسپائی یونیورس بحران میں؟ ’’ٹائیگر ورسیز پٹھان‘‘ تعطل کا شکار
انڈونیشیائی فوج کے ترجمان ڈونی برامونو نے بتایا کہ جکارتہ امن برقرار رکھنے کیلئے مجوزہ کثیر القومی فورس کے حصے کے طور پر غزہ میں ممکنہ تعیناتی کیلئے ایک ہزار فوجی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعیناتی کے حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور جون تک تیار فوجیوں کی کل تعداد ۸؍ ہزار ہو جائے گی۔ انڈونیشیائی وزارت خارجہ کے مطابق انڈونیشیا کسی بھی وقت غزہ کی پٹی میں استحکام کیلئے بین الاقوامی افواج میں اپنی یونٹ کی شرکت ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اگر مشن کا نفاذ ملک کے قومی مفادات اور خارجہ پالیسی کے خلاف ہوا۔جکارتہ گلوب اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس مشن کو کسی بھی لمحے ختم کر سکتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی استحکام فورس کے مشن کا نفاذ قومی اہداف سے ہٹ گیا یا انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی کے متصادم ہوا تو انڈونیشیا اپنی شرکت ختم کر دے گا۔
یہ بھی پڑھئے:برٹش میوزیم نے قدیم ڈسپلے سے لفظ ’’فلسطین‘‘ ہٹا دیا
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں استحکام کیلئے بین الاقوامی فورس میں انڈونیشیائی فوجیوں کی شرکت خاص طور پر انسانی ہمدردی کے کاموں تک محدود ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی ترسیل میں سہولت کاری، تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لینے اور فلسطینی پولیس افسران کی تربیت کی بات کر رہے ہیں۔بیان میں واضح کیا گیا کہ انڈونیشیائی یونٹ جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گی اور نہ ہی کسی مسلح گروپ کے ساتھ جھڑپوں میں شامل ہوگی۔ طاقت کا استعمال صرف اپنے دفاع اور آخری چارہ کے طور پر کیا جائے گا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں مختلف ممالک اپنی افواج بھیج رہے ہیں۔