حکومت کا دیہی طلب میں اضافہ اور پائیدار ترقی پر زور ، پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کے اندیشوں کی وجہ سےیکم فروری کو بجٹ پیش کئے جانے سے پہلے شیئر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور اس کے دباؤ میں رہنے کاامکان۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این
مرکزی بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ء کے پیش ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔صنعتی تنظیموں کی مانگ ہے کہ ایم ایس ایم ای، مینوفیکچرنگ، گرین انرجی، مصنوعی ذہانت اور برآمدات کو فروغ دیا جائے اور اس کے لیے تیز جی ایس ٹی ریفنڈ اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ماہرین معیاشیات نے مزید بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا ۴ء۴؍ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دیہی طلب اور پائیدار ترقی پر زور دے کر ہندوستان کو۵؍ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو جیسے جیسے بجٹ کا دن قریب آتا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۲۲ء کے دوران بجٹ سے پہلے مارکیٹ اکثر مندی کے ساتھ کاروبار کرتی رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تاہم، بجٹ کے بعد مارکیٹ میں اکثر بحالی بھی دیکھی جاتی ہے۔
یہ رجحان حالیہ برسوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں سے چار سال بجٹ سے پہلے والے مہینے میں نِفٹی مندی میں رہا، جس میں جنوری ۲۰۲۵ء کی مندی بھی شامل ہے۔ جے ایم فائنانشیل سروسیز کے ٹیکنیکل اور ڈیرویٹیو ریسرچ کے سربراہ راہل شرما نے کہا کہ یونین بجٹ ۲۰۲۶ء سے توقع ہے کہ حکومت مالی توازن برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔ ساتھ ہی، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیز جیسے عالمی دباؤ کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ماہرین کے مطابق بجٹ میں انفراسٹرکچر، دفاع اور ریلوے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور ہو سکتا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔ دفاعی بجٹ بڑھنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ بجٹ والے دن مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ رہ سکتا ہے۔ اگر بجٹ میں توقع کے مطابق راحت نہ ملی یا مالی اہداف خراب ہوئے، تو فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سود کی شرحیں بڑھ سکتی ہیں اور مارکیٹ میں پیسے کی قلت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، روپے میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تجارت میں رکاوٹ بھی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ملک میں پالیسیوں کے نفاذ میں تاخیر سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی انتباہ دیا کہ اسٹاک مارکیٹ کی زیادہ قیمتیں، ایف آئی آئی کی فروخت اور اے آئی ببل کا پھٹنا کچھ اضافی رکاوٹیں ہیں جو اس سال نِفٹی کی ۲۹؍ہزار کی سطح کی ریلی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ بجٹ کے بعد صورتحال واضح ہونے تک کچھ نقدی محفوظ رکھیں اور دفاع اور سرکاری بینکوں جیسے منتخب شعبوں پر توجہ دیں۔ دریں اثنا، کیر ایج ریٹنگز کا اندازہ ہے کہ ۲۰۲۶ء میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا ۴ء۴؍ فیصد رہے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال ۲۰۲۷ء میں مالی خسارہ ۲ء۴؍ سے ۳ء۴؍ فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ اس دوران حکومت کا کل قرض۱۶۱۷؍ لاکھ کروڑ روپے اور خالص قرض ۵ء۱۲؍لاکھ کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے۔